قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات میں ایک بڑی اور مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں پاکستان نے بطور ثالث ایک انتہائی اہم اور تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور قطر کی مشترکہ ثالثی اور سفارتی کوششوں کے باعث دونوں حریف ممالک کے وفود نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو آگے بڑھانے کے لیے واضح آمادگی ظاہر کی ہے۔
دوحہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات کو فیصلہ کن بنانے کے لیے ایران، قطر اور پاکستان کا ایک اہم سہ فریقی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی سمیت پاکستان اور قطر کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اس سہ فریقی ملاقات کے دوران خاص طور پر امریکہ ایران عبوری معاہدے کے نفاذ کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پاکستان کے اہم سفارتی کردار کی روشنی میں مفاہمتی یادداشت کے نفاذ پر بات چیت کو آگے بڑھایا گیا۔
پاکستانی اور قطری ثالثوں نے بدھ کے روز امریکی اور ایرانی مذاکراتی وفود کے ساتھ الگ الگ تفصیلی ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق امور پر انتہائی مثبت پیش رفت ہوئی۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اور قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق یہ اہم مذاکرات لیک لوسرن سربراہی اجلاس (سمٹ) کے نتائج کی بنیاد پر آگے بڑھائے گئے ہیں، جہاں پاکستان نے تعمیری تبادلہ خیال کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ تمام فریقین نے آنے والے دنوں میں بھی مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔
تاہم، سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کی تقریبات کی وجہ سے مذاکرات کو عارضی طور پر روکا گیا ہے، اور تدفین کے فوراً بعد پاکستان اور قطر کی مشاورت سے اگلے دور کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
امریکی وفد کی جانب سے جے ڈی وینس نے بھی دوحہ میں ہونے والی اس پیش رفت کو تعمیری قرار دیا ہے، جس میں پاکستان کی سفارتی کوششیں انتہائی نمایاں رہی ہیں۔
دیکھیے: خلیجی ممالک کا اجلاس: امریکہ ایران معاہدے میں پاکستان کا سفارتی کردار مانا گیا