بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور امریکا کا مشترکہ وزارتی اجلاس شروع ہو گیا ہے، جس میں امریکا ایران معاہدے، آبنائے ہرمز کو کھولنے اور علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے افتتاحی سیشن میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس عمل میں پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کو سراہا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق، بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے اپنے خطاب میں واشنگٹن اور تہران کے مابین کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے خطے کے امن و استحکام کے لیے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس ضمن میں پاکستان اور قطر کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کی کھل کر تعریف کی۔ بحرینی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی اور سلطنتِ عمان کی جانب سے عارضی بحری راہداری کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے تسلسل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ ایران کو مفاہمتی معاہدے کے تحت جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور بین الاقوامی بحری گزرگاہوں میں آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی تمام ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا۔
دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اجلاس کے موقع پر اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے ٹول ٹیکس یا فیس عائد کرنے کے منصوبے کی ہرگز حمایت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہوتیں اور ان پر تجارتی جہازوں سے فیس وصول کرنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوگا۔
امریکی وزیر خارجہ نے تمام خلیجی ممالک کی جانب سے اس فیس کی مخالفت کی تائید کرتے ہوئے اپنے خلیجی اتحادیوں کو یقین دلایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور کسی بھی حتمی معاہدے کے دوران ان کے سیکیورٹی مفادات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔