آسٹریلیا نے سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اپنے شہریوں کو افغانستان کا سفر کرنے سے سختی سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صورتحال بدستور غیر یقینی اور خطرناک ہے۔ آسٹریلوی محکمہ خارجہ و تجارت کی جانب سے جاری تازہ سفری ایڈوائزری میں شہریوں کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ وہ افغانستان کا سفر کسی بھی صورت میں نہ کریں۔ حکام کے مطابق ماضی میں افغانستان میں آسٹریلوی شہری ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ بعض افراد کو غیر قانونی طور پر حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
کابل بھی غیر محفوظ
ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کا کوئی بھی حصہ مکمل طور پر محفوظ نہیں، حتیٰ کہ دارالحکومت کابل بھی سکیورٹی خطرات سے محفوظ نہیں۔ شہریوں کو سیاحت، کاروبار، ثقافتی سرگرمیوں یا خاندانی ملاقاتوں سمیت ہر قسم کے سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔ آسٹریلوی حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہاں کسی بھی شہری کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
دیگر ممالک
رپورٹ کے مطابق صرف آسٹریلیا ہی نہیں، بلکہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر کئی ممالک بھی اپنے شہریوں کو افغانستان کے سفر سے متعلق اسی نوعیت کی سخت سفری ہدایات جاری کر چکے ہیں اور غیر ضروری سفر سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان ممالک کی جانب سے بھی تسلسل کے ساتھ اپنے شہریوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ موجودہ سیکیورٹی ماحول میں افغانستان جانے کے فیصلے سے باز رہیں۔
بین الاقوامی خدشات
اس حوالے سے تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے جاری ہدایات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر خدشات برقرار ہیں۔
مجموعی طور پر متعدد ممالک اپنے سفری مشوروں پر نظر ثانی کرتے ہوئے شہریوں کو افغانستان سے متعلق تازہ ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تلقین کر رہے ہیں، جو افغان حکومت کے امن و امان کے دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔