کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی رسمی تعلیم پر عائد پابندیوں کے بعد آن لائن تعلیم اگرچہ ان کے لیے واحد متبادل رہ گئی تھی، تاہم غربت، انٹرنیٹ کی محدود سہولیات، بجلی کی قلت اور ڈیجیٹل آلات کی عدم دستیابی کے باعث ہزاروں افغان لڑکیاں اس سہولت سے بھی محروم ہو چکی ہیں۔
افغان اخبار ہشت صبح نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چھٹی جماعت سے اوپر طالبات کی تعلیم پر پابندی اور خواتین کے لیے جامعات کی بندش کے بعد آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ بچا تھا، لیکن زیادہ تر افغان خاندان اسمارٹ فون، انٹرنیٹ پیکجز اور بجلی کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
وسائل کی کمی
رپورٹ کے مطابق متعدد طالبات کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں میں صرف 1 سادہ موبائل فون موجود ہے، جو گھر کے سربراہ کے استعمال میں رہتا ہے، جس کی وجہ سے آن لائن کلاسوں میں شرکت ممکن نہیں ہوتی۔
بعض طالبات نے یہ بھی بتایا کہ کئی آن لائن کورسز انگریزی زبان میں ہوتے ہیں یا ان میں داخلے کی محدود گنجائش ہوتی ہے، جس سے انگریزی سے ناواقف طالبات کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ طالبات کو آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز استعمال کرنے کے لیے درکار بنیادی ڈیجیٹل مہارتیں بھی حاصل نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی رہنمائی کے لیے کوئی موجود ہے۔
متاثرہ طالبات کی کہانیاں
صوبہ بغلان سے تعلق رکھنے والی طالبہ سلمیٰ نے بتایا کہ اس کے والد کھیتی باڑی کر کے بمشکل گھر کا خرچ پورا کرتے ہیں اور وہ آن لائن تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، جس کے باعث اس کے گاؤں کی بیشتر لڑکیاں اب تعلیم کے بجائے سلائی کڑھائی میں مصروف ہیں۔
ایک اور متاثرہ طالبہ سمیہ (فرضی نام) نے بتایا کہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے وقت وہ 8 ویں جماعت کی طالبہ تھی، مگر والد کے انتقال اور مالی مشکلات کے باعث آن لائن تعلیم حاصل نہ کر سکی، جس کے بعد خاندان نے اس کی شادی کر دی۔
اسی طرح ناہد سادات، جو صحافی بننے کا خواب رکھتی تھیں، نے بتایا کہ وہ انٹرنیٹ کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے اپنی آن لائن تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں۔
لاکھوں لڑکیاں تعلیم سے محروم
بین الاقوامی تنظیموں کے اندازوں کے مطابق ان سخت پابندیوں کے باعث افغانستان میں 22 لاکھ سے زائد لڑکیاں رسمی تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں۔ طالبان کے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد لڑکیوں کے ثانوی اسکولوں پر پابندی عائد کی گئی، دسمبر 2022 میں خواتین کے لیے جامعات بند کی گئیں، جبکہ 2024 کے آخر میں طبی تعلیمی اداروں میں بھی خواتین کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔
والدین کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کی صورت میں خاندان عموماً دستیاب تعلیمی سہولیات بیٹوں کو فراہم کرتے ہیں، جبکہ لڑکیاں نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ ان فیصلوں کے بعد افغانستان دنیا کا واحد ملک بن گیا ہے جہاں لڑکیوں کو سرکاری سطح پر ثانوی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے، اور یہ پالیسی عالمی سطح پر شدید تنقید کا شکار ہے۔
دیکھیے: آسٹریلیا نے اپنے شہریوں کو افغانستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی