سوشل میڈیا پر صحافی اسد طور کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو ان دنوں شدید بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے، جس میں ایک اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے مبینہ طور پر ایک خوانچہ فروش پر تشدد کا منظر دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر اس دعوے کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے کہ یہ حال ہی میں پیش آنے والا کوئی واقعہ ہے، جس کا ذمہ دار موجودہ ضلعی انتظامیہ کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔
حقائق کی جانچ
تاہم، اس وائرل مواد کی حقائق کی جانچ (فیکٹ چیک) سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو بالکل نئی نہیں ہے، بلکہ درحقیقت پاکستان میں 2020 کے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس ویڈیو کو اس کی اصل تاریخ اور پس منظر کے بغیر دوبارہ شیئر کیا گیا ہے، جس کے باعث ناظرین میں یہ غلط تاثر پیدا ہوا کہ یہ موجودہ انتظامیہ کا کوئی حالیہ اقدام ہے۔
A viral video shared by Asad Toor is being circulated as a recent incident involving an Assistant Commissioner. However, verification shows the footage was recorded during Pakistan's 2020 COVID-19 lockdown and has been reshared without its original context, making the claim… pic.twitter.com/UnrPMRYeid
— Balochistan Pulse (@BalochPulse) July 5, 2026
ویڈیو کا اصل تاریخی پس منظر
رپورٹ کے مطابق، یہ ویڈیو 2020 میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے عروج پر بنائی گئی تھی، جب وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ملک بھر میں سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا تھا۔ اس دور میں اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران کو بازاروں، کاروباری مراکز اور عوامی مقامات پر عائد پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، اور یہ واقعہ اسی تناظر میں پیش آیا تھا۔
موجودہ انتظامیہ
فیکٹ چیک میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا افسر موجودہ اسسٹنٹ کمشنر خار نہیں ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق، ویڈیو میں دکھائی دینے والا افسر 2020 میں اس عہدے پر تعینات تھا اور اس کا تعلق صوبائی مینجمنٹ سروس سے تھا، جبکہ خار کے موجودہ اسسٹنٹ کمشنر عامر وزیر ہیں، جو اس واقعے کے وقت اس منصب پر سرے سے تعینات ہی نہیں تھے۔
حتمی نتیجہ
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پرانی ویڈیو کو اس کے اصل وقت، حالات اور سیاق و سباق کے بغیر پیش کرنا سراسر گمراہ کن ہے، جو ناظرین کو موجودہ ضلعی انتظامیہ سے متعلق غلط نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق، اس وائرل ویڈیو کا موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہیں اور اسے سوشل میڈیا پر گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔