امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے جاری کردہ قتل کی فہرست میں ان کا نام سرِ فہرست رکھا گیا ہے۔ انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ کل سامنے آنے والی ٹارگٹ کلنگ لسٹ میں ان کا نام پہلے نمبر پر ہے، حالانکہ وہ ہٹ لسٹ کے بجائے ٹک ٹاک پر پہلے نمبر پر ہونا زیادہ پسند کرتے۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے فوجی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والا جنگ بندی کا فریم ورک عملاً ختم ہو چکا ہے اور امریکی مذاکرات کار اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ایران کے فضائی دفاعی نظام اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی خطے میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے۔
ایران کا اعلان
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ اور سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے منگل کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا نام لیتے ہوئے کہا کہ شہید رہبر کے قتل کے ذمہ دار ان دو افراد کو انجام سے بچنے نہیں دیا جائے گا، اور ایران اس کا اسٹریٹجک انتقام لے گا۔
اسرائیل جنگ کے لیے تیار
اس سنگین عسکری تناؤ کے درمیان اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ہائی الرٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے احکامات ملتے ہی اسرائیلی فورسز ایران کے خلاف امریکی فوج کے شانہ بشانہ جنگ میں شامل ہونے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ایرانی وعدوں پر کبھی بھروسہ نہیں کیا اور جنگ بندی کے پہلے دن سے ہی تیاریاں کی جا رہی تھیں، کیونکہ ایرانی قیادت متکبرانہ انداز میں امریکہ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس پر اب صدر ٹرمپ کا صبر ختم ہو چکا ہے۔
دیکھیے: ایران پر امریکی فضائی حملے، پاسدارانِ انقلاب کا امریکی اڈوں پر جوابی حملہ