طالبان حکومت کی پالیسیوں اور ملک میں روزگار کی شدید کمی نے افغان عوام کو تاریخ کے بدترین انسانی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، جہاں 74 فیصد آبادی فاقہ کشی کا شکار ہو چکی ہے۔ افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امدادی امور (او سی ایچ اے) نے تصدیق کی ہے کہ افغان سرزمین پر لاکھوں خاندانوں کی زندگی شدید متاثر ہے۔
او سی ایچ اے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ عالمی میڈیا کی نظروں سے دور رہنے کے باوجود طالبان کے زیرِ تسلط افغان عوام سنگین ترین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
افغان طالبان کے طرزِ حکمرانی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں روزگار کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کی شدید قلت نے زندگی انتہائی مشکل بنا دی ہے۔
دوسری جانب سابق افغان صدر کے ترجمان صدیق صدیقی نے انکشاف کیا ہے کہ موجودہ رجیم نے افغان سرزمین کو دنیا کا غریب ترین خطہ بنا دیا ہے، جہاں اس وقت 29 ملین (2 کروڑ 90 لاکھ) سے زائد افغان شہری غربت کی لکیر سے نیچے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ادارہ برائے انسانی امدادی امور کی ڈائریکٹر ایڈیم وسورنو کے مطابق افغانستان میں مالی وسائل کی شدید کمی اور بالخصوص خواتین پر عائد سخت پابندیوں نے افغان عوام کی مشکلات کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی میں ناکام طالبان انتظامیہ کی ترجیحات عوامی فلاح کے بجائے دیگر امور پر مرکوز ہیں، جس کی قیمت معصوم افغان عوام کو چکانی پڑ رہی ہے۔
دیکھیے: پاکستان نے مزید 49 غیر قانونی افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کر دیا