نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت 47 اشتہاری مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

August 25, 2026

گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا۔

August 25, 2026

افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی۔

August 25, 2026

ہری پور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا، صوبائی حکومت کی ترجیحات پر شدید تنقید۔

August 25, 2026

آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں عہدوں پر واضح اکثریت سے کامیاب۔

August 25, 2026

علی وزیر کے خلاف مختلف اضلاع میں درج مقدمات پر قانونی مؤقف سامنے آیا ہے کہ ایف آئی آر تحقیقات کا ابتدائی مرحلہ ہے جبکہ حتمی فیصلہ شواہد کی بنیاد پر عدالتیں کریں گی۔

August 25, 2026

شبیر احمد کیس: برطانوی مجرم کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا بیانیہ مسترد

برطانوی مجرم شبیر احمد کیس کو پاکستان کا مسئلہ بنانے کا بیانیہ مسترد؛ 60 سال برطانیہ میں گزارنے والے مجرم کی جوابدہی پاکستان منتقل نہیں کی جا سکتی۔
شبیر احمد کیس

برطانوی شہری شبیر احمد کیس کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش، برطانوی قانونی نظام کی خامیوں اور ذمہ داری پر سوالات۔

July 9, 2026

برطانیہ میں بچوں کے خلاف سنگین جرائم میں سزا یافتہ برطانوی شہری شبیر احمد کیس کو قانونی دائرہ اختیار کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے پاکستانی مسئلہ بنا کر پیش کرنے کا برطانوی بیانیہ سامنے آیا ہے، جسے پاکستان کے قانونی و سفارتی حلقوں نے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں مسترد کر دیا ہے۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق شبیر احمد محض 14 سال کی عمر میں 1967 میں برطانیہ منتقل ہوا تھا اور اس نے اپنی زندگی کے تقریباً 60 سال برطانوی معاشرے میں ہی گزاریں۔ اس کے تمام جرائم، تفتیش، عدالتی ٹرائل، سزا اور سزا کے بعد نگرانی کے تمام مراحل برطانوی دائرہ اختیار میں مکمل ہوئے، جس کے باعث یہ بنیادی طور پر برطانوی فوجداری نظامِ عدل کا خالص داخلی معاملہ ہے۔

انتظامی اور قانونی ناکامیاں

تجزیاتی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ برطانوی پارلیمنٹ اور میڈیا کی جانب سے مجرم کی برطانوی شہریت اور جائے وقوعہ کے بجائے اس کی نسل اور اصلِ وطن (پاکستانی پس منظر) کو اچھالنا دراصل برطانیہ کے اپنے امیگریشن اور سیف گارڈنگ سسٹم کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

اس مہم سے برطانوی پاکستانی برادری کو داغدار کرنے اور گرومنگ گینگز اسکینڈل سے متعلق سرکاری تحقیقات میں سامنے آنے والی پولیس اور مقامی انتظامیہ کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ شبیر احمد کی پاکستان ڈی پورٹیشن میں اصل رکاوٹ پاکستان نہیں، بلکہ خود برطانیہ کا ہوم لا (امیگریشن ایکٹ 1971 کی دفعہ 7 اور ہیومن رائٹس ایکٹ 1998) ہے جو طویل عرصے سے مقیم شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ قوانین ناکافی ہیں تو ان میں اصلاحات کی ذمہ داری برطانوی پارلیمنٹ پر عائد ہوتی ہے، پاکستان پر نہیں۔

پاکستان کا اصولی مؤقف

پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ بچوں کے خلاف ایسے گھناؤنے جرائم کی شدید مذمت کرتا ہے اور انصاف کی فراہمی کے لیے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی برطانیہ سے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ تاہم، بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کسی بھی ڈی پورٹ کیے جانے والے شخص کو قبول کرنے سے پہلے اس کی شہریت کا حتمی اور مستند دستاویزی ثبوت مانگنے کا خود مختار حق رکھتا ہے۔

یہ کہنا کہ پاکستان اپنے مجرم کو واپس لے قانونی طور پر غلط ہے کیونکہ شبیر احمد کی مجرمانہ زندگی برطانوی نظام میں پروان چڑھی اور برطانیہ کے پاس ہائی رِسک مجرموں کے لیے پروبیشن، الیکٹرانک نگرانی اور میپا جیسے جامع قوانین پہلے سے موجود ہیں۔ پاکستان کسی دوسرے ملک کے جرائم اور قانونی پابندیوں کا بوجھ محض شناخت کی سیاسی تشکیل نو کے تحت قبول نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت 47 اشتہاری مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

August 25, 2026

گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا۔

August 25, 2026

افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی۔

August 25, 2026

ہری پور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا، صوبائی حکومت کی ترجیحات پر شدید تنقید۔

August 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *