برطانیہ میں بچوں کے خلاف سنگین جرائم میں سزا یافتہ برطانوی شہری شبیر احمد کیس کو قانونی دائرہ اختیار کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے پاکستانی مسئلہ بنا کر پیش کرنے کا برطانوی بیانیہ سامنے آیا ہے، جسے پاکستان کے قانونی و سفارتی حلقوں نے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں مسترد کر دیا ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق شبیر احمد محض 14 سال کی عمر میں 1967 میں برطانیہ منتقل ہوا تھا اور اس نے اپنی زندگی کے تقریباً 60 سال برطانوی معاشرے میں ہی گزاریں۔ اس کے تمام جرائم، تفتیش، عدالتی ٹرائل، سزا اور سزا کے بعد نگرانی کے تمام مراحل برطانوی دائرہ اختیار میں مکمل ہوئے، جس کے باعث یہ بنیادی طور پر برطانوی فوجداری نظامِ عدل کا خالص داخلی معاملہ ہے۔
انتظامی اور قانونی ناکامیاں
تجزیاتی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ برطانوی پارلیمنٹ اور میڈیا کی جانب سے مجرم کی برطانوی شہریت اور جائے وقوعہ کے بجائے اس کی نسل اور اصلِ وطن (پاکستانی پس منظر) کو اچھالنا دراصل برطانیہ کے اپنے امیگریشن اور سیف گارڈنگ سسٹم کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
اس مہم سے برطانوی پاکستانی برادری کو داغدار کرنے اور گرومنگ گینگز اسکینڈل سے متعلق سرکاری تحقیقات میں سامنے آنے والی پولیس اور مقامی انتظامیہ کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ شبیر احمد کی پاکستان ڈی پورٹیشن میں اصل رکاوٹ پاکستان نہیں، بلکہ خود برطانیہ کا ہوم لا (امیگریشن ایکٹ 1971 کی دفعہ 7 اور ہیومن رائٹس ایکٹ 1998) ہے جو طویل عرصے سے مقیم شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ قوانین ناکافی ہیں تو ان میں اصلاحات کی ذمہ داری برطانوی پارلیمنٹ پر عائد ہوتی ہے، پاکستان پر نہیں۔
پاکستان کا اصولی مؤقف
پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ بچوں کے خلاف ایسے گھناؤنے جرائم کی شدید مذمت کرتا ہے اور انصاف کی فراہمی کے لیے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی برطانیہ سے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ تاہم، بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کسی بھی ڈی پورٹ کیے جانے والے شخص کو قبول کرنے سے پہلے اس کی شہریت کا حتمی اور مستند دستاویزی ثبوت مانگنے کا خود مختار حق رکھتا ہے۔
یہ کہنا کہ پاکستان اپنے مجرم کو واپس لے قانونی طور پر غلط ہے کیونکہ شبیر احمد کی مجرمانہ زندگی برطانوی نظام میں پروان چڑھی اور برطانیہ کے پاس ہائی رِسک مجرموں کے لیے پروبیشن، الیکٹرانک نگرانی اور میپا جیسے جامع قوانین پہلے سے موجود ہیں۔ پاکستان کسی دوسرے ملک کے جرائم اور قانونی پابندیوں کا بوجھ محض شناخت کی سیاسی تشکیل نو کے تحت قبول نہیں کرے گا۔