امریکہ ایران جنگ بندی عملاً ختم؛ صدر ٹرمپ کا ایرانی ہٹ لسٹ پر اپنا نام سرِ فہرست ہونے کا دعویٰ، اسرائیل ہائی الرٹ۔

July 9, 2026

وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران گل بہادر گروپ سے وابستہ افغان شہری محمد وہاب عرف صیاد ہلاک۔

July 9, 2026

افغانستان میں روزگار کی شدید کمی اور طالبان کی پالیسیوں کے باعث 74 فیصد عوام فاقہ کشی پر مجبور، 29 ملین آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی۔

July 9, 2026

برطانوی مجرم شبیر احمد کیس کو پاکستان کا مسئلہ بنانے کا بیانیہ مسترد؛ 60 سال برطانیہ میں گزارنے والے مجرم کی جوابدہی پاکستان منتقل نہیں کی جا سکتی۔

July 9, 2026

خضدار میں پی پی رہنما شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر مسلح حملہ؛ اڑھائی گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپ میں 17 سے 19 افراد ہلاک، شفیق مینگل محفوظ۔

July 9, 2026

امریکہ کے ایران میں 90 فوجی اہداف پر فضائی حملے، جواب میں پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر میزائل آپریشن۔

July 9, 2026

شبیر احمد کیس: برطانوی مجرم کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا بیانیہ مسترد

برطانوی مجرم شبیر احمد کیس کو پاکستان کا مسئلہ بنانے کا بیانیہ مسترد؛ 60 سال برطانیہ میں گزارنے والے مجرم کی جوابدہی پاکستان منتقل نہیں کی جا سکتی۔
شبیر احمد کیس

برطانوی شہری شبیر احمد کیس کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش، برطانوی قانونی نظام کی خامیوں اور ذمہ داری پر سوالات۔

July 9, 2026

برطانیہ میں بچوں کے خلاف سنگین جرائم میں سزا یافتہ برطانوی شہری شبیر احمد کیس کو قانونی دائرہ اختیار کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے پاکستانی مسئلہ بنا کر پیش کرنے کا برطانوی بیانیہ سامنے آیا ہے، جسے پاکستان کے قانونی و سفارتی حلقوں نے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں مسترد کر دیا ہے۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق شبیر احمد محض 14 سال کی عمر میں 1967 میں برطانیہ منتقل ہوا تھا اور اس نے اپنی زندگی کے تقریباً 60 سال برطانوی معاشرے میں ہی گزاریں۔ اس کے تمام جرائم، تفتیش، عدالتی ٹرائل، سزا اور سزا کے بعد نگرانی کے تمام مراحل برطانوی دائرہ اختیار میں مکمل ہوئے، جس کے باعث یہ بنیادی طور پر برطانوی فوجداری نظامِ عدل کا خالص داخلی معاملہ ہے۔

انتظامی اور قانونی ناکامیاں

تجزیاتی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ برطانوی پارلیمنٹ اور میڈیا کی جانب سے مجرم کی برطانوی شہریت اور جائے وقوعہ کے بجائے اس کی نسل اور اصلِ وطن (پاکستانی پس منظر) کو اچھالنا دراصل برطانیہ کے اپنے امیگریشن اور سیف گارڈنگ سسٹم کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

اس مہم سے برطانوی پاکستانی برادری کو داغدار کرنے اور گرومنگ گینگز اسکینڈل سے متعلق سرکاری تحقیقات میں سامنے آنے والی پولیس اور مقامی انتظامیہ کی خامیوں پر پردہ ڈالنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ شبیر احمد کی پاکستان ڈی پورٹیشن میں اصل رکاوٹ پاکستان نہیں، بلکہ خود برطانیہ کا ہوم لا (امیگریشن ایکٹ 1971 کی دفعہ 7 اور ہیومن رائٹس ایکٹ 1998) ہے جو طویل عرصے سے مقیم شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ قوانین ناکافی ہیں تو ان میں اصلاحات کی ذمہ داری برطانوی پارلیمنٹ پر عائد ہوتی ہے، پاکستان پر نہیں۔

پاکستان کا اصولی مؤقف

پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ بچوں کے خلاف ایسے گھناؤنے جرائم کی شدید مذمت کرتا ہے اور انصاف کی فراہمی کے لیے ماضی کی طرح مستقبل میں بھی برطانیہ سے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ تاہم، بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کسی بھی ڈی پورٹ کیے جانے والے شخص کو قبول کرنے سے پہلے اس کی شہریت کا حتمی اور مستند دستاویزی ثبوت مانگنے کا خود مختار حق رکھتا ہے۔

یہ کہنا کہ پاکستان اپنے مجرم کو واپس لے قانونی طور پر غلط ہے کیونکہ شبیر احمد کی مجرمانہ زندگی برطانوی نظام میں پروان چڑھی اور برطانیہ کے پاس ہائی رِسک مجرموں کے لیے پروبیشن، الیکٹرانک نگرانی اور میپا جیسے جامع قوانین پہلے سے موجود ہیں۔ پاکستان کسی دوسرے ملک کے جرائم اور قانونی پابندیوں کا بوجھ محض شناخت کی سیاسی تشکیل نو کے تحت قبول نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

امریکہ ایران جنگ بندی عملاً ختم؛ صدر ٹرمپ کا ایرانی ہٹ لسٹ پر اپنا نام سرِ فہرست ہونے کا دعویٰ، اسرائیل ہائی الرٹ۔

July 9, 2026

وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران گل بہادر گروپ سے وابستہ افغان شہری محمد وہاب عرف صیاد ہلاک۔

July 9, 2026

افغانستان میں روزگار کی شدید کمی اور طالبان کی پالیسیوں کے باعث 74 فیصد عوام فاقہ کشی پر مجبور، 29 ملین آبادی غربت کی لکیر سے نیچے چلی گئی۔

July 9, 2026

خضدار میں پی پی رہنما شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر مسلح حملہ؛ اڑھائی گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپ میں 17 سے 19 افراد ہلاک، شفیق مینگل محفوظ۔

July 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *