بلوچستان کے ضلع خضدار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر اور قبائلی رہنما میر شفیق الرحمٰن مینگل کی رہائش گاہ پر مسلح افراد نے بزدلانہ حملہ کیا ہے۔ شفیق مینگل کے قریبی ساتھی ندیم الرحمٰن بلوچ کے مطابق اس حملے کے بعد دونوں مسلح گروہوں کے درمیان اڑھائی گھنٹے تک شدید فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ جاری رہا۔
اس خونریز جھڑپ کے نتیجے میں مجموعی طور پر 17 سے 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملے میں شفیق مینگل گروپ کے 12 سے 14 افراد جان سے گئے، جبکہ جوابی فائرنگ سے 5 حملہ آور بھی مارے گئے۔ جھڑپ کے وقت میر شفیق الرحمٰن مینگل گھر پر ہی موجود تھے، تاہم وہ حملے میں بالکل محفوظ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شفیق مینگل نے حال ہی میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے اور وہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے شدید مخالف ہیں۔ ماضی میں ان پر مسلح گروپس کی سرپرستی اور سہولت کاری کے الزامات بھی لگ چکے ہیں، تاہم وہ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خضدار حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شفیق مینگل اور ان کے ساتھیوں کی استقامت کو سراہا ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے، اور صوبے سے امن دشمن عناصر کے تمام مذموم عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔