پاکستانی قیادت اور اتحادی مسلم ممالک کی فعال سفارت کاری کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کا توسیعی منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے نتیجے میں خطے میں باقاعدہ جنگ بندی عمل میں آ گئی ہے جس نے پورے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے تنازع کو بنیاد بنا کر غزہ کے مستقل الحاق، فلسطینیوں کی بے دخلی، لبنان میں پیش قدمی اور شام میں عسکری انفراسٹرکچر تباہ کر کے وسیع علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کی جارحانہ کوشش کی تھی۔ تاہم پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے مضبوط سفارتی اتحاد نے ان عزائم کو ناکام بنا دیا۔
دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل نے جون 2025 اور فروری 2026 میں ایران کے خلاف وسیع فوجی مہم کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیلنا تھا۔ اسرائیل کو توقع تھی کہ خلیجی ممالک اور ترکیہ اس تصادم کا حصہ بنیں گے، جس سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کا فائدہ اسرائیل اٹھائے گا۔
پاکستان نے اس سٹریٹجک خطرے کو وقت سے پہلے بھانپتے ہوئے سعودی عرب کو براہِ راست عسکری مہم جوئی سے دور رہنے کا مشورہ دیا، جس کے باعث دیگر خلیجی ریاستیں بھی تصادم سے محفوظ رہیں۔ پاکستان نے تہران کو پسِ پردہ یقین دلایا کہ سعودی سرزمین ان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، جس سے مسلم ممالک کے مابین غلط فہمیاں پیدا نہ ہو سکیں۔
بحران کے حل کے لیے 29 مارچ کو اسلام آباد میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کا چار فریقی اجلاس ہوا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والی ان انتھک کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا اور 45 روزہ روڈ میپ کے تحت جنگ بندی کا اعلان ممکن ہوا۔
اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے تحت جہاں آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولنے کی توثیق کی گئی، وہی واشنگٹن نے بھی فوجی ڈیڈ لائن سے قبل اس جنگ بندی کو تسلیم کیا۔ جنگ بندی کے بعد امریکا کی جانب سے ابراہیمی معاہدے میں توسیع کی تجویز دی گئی تھی، جسے پاکستان نے یکسر مسترد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر اپنا اصولی موقف برقرار رکھا۔