جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے پاک فوج کے عام سپاہی کی تنخواہ کو لے کر دیے گئے حالیہ متنازع بیان پر عوامی اور سیاسی حلقوں سمیت صحافتی برادری کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک پاک فوج کے شہید سپاہی کی والدہ، معروف تجزیہ کاروں اور حکومتی عہدیداروں کے انتہائی سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک انٹرویو میں پاک فوج کے شہید سپاہی جہانزیب کی والدہ نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر شدید دکھ اور غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے روتے ہوئے انتہائی جذباتی انداز میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ کو للکارا اور ایک بڑا چیلنج پیش کیا۔
شہید کی والدہ نے مولانا فضل الرحمٰن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا، میں مولانا فضل الرحمٰن کو چیلنج کرتی ہوں کہ میں انہیں اپنی کروڑوں روپے کی جائداد اور یہ گھر دینے کو تیار ہوں۔ مولانا اپنے اس بیٹے کو جو اسمبلی میں بیٹھا عیش کر رہا ہے، ذرا باہر لائیں اور اسے ملک کی سرحد پر، خاص طور پر انڈیا کے بارڈر پر تھوڑی دیر کے لیے کھڑا کریں۔ اگر وہاں اس کی ٹانگیں نہ کانپیں تو پھر مجھ سے بات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ان کے بیٹے کی شہادت کی خبر آئی تو وہ اپنی پوری کائنات قربان کرنے کو تیار تھیں کہ کوئی ان کا بیٹا واپس کر دے، لیکن شہید کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنخواہوں پر طنز کرنے والوں کو شہید کے مرتبے اور اس کے تقدس کا اندازہ ہی نہیں ہے، ایک سپاہی چند ہزار روپے کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتا۔
پاکستان آرمی کی ٹاپ قیادت پر اس کے سیاسی کردار کی وجہ سے ہمیشہ سے تنقید ہوتی آئی ہے لیکن مولانا فضل الرحمن کا عام سپاہی کے بارے یہ الفاظ کہنا ان کی بڑی بے حسی ظاہر کرتی ہے۔ایک سپاہی بندوق لے کر اپنی جان کو صرف ایک لاکھ روپے کے لیے خطرے میں نہیں ڈالتا۔اپنی جان دینے اور دشمن کی جان… pic.twitter.com/dUY06ejG9F
— Rauf Klasra (@KlasraRauf) July 14, 2026
دوسری جانب، معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے بھی مولانا فضل الرحمٰن کی اس گفتگو کو شدید بے حسی قرار دیا ہے۔ رؤف کلاسرا نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں لکھا کہ پاکستان کی عسکری قیادت کو سیاسی کردار کی وجہ سے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ایک عام سپاہی کے بارے میں کہے گئے الفاظ ان کی گہری بے حسی کا ثبوت ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایک عام سپاہی ہاتھ میں بندوق تھام کر محض ایک لاکھ روپے کی تنخواہ کے لیے موت کے منہ میں نہیں جاتا۔ جان دینا اور دشمن کے سامنے ڈٹ جانا صرف نوکری یا تنخواہ کا معاملہ نہیں ہوتا، لیکن مولانا نے اپنی تقریر میں اسی معمولی تنخواہ کو طنز کا نشانہ بنایا جو انتہائی افسوسناک ہے۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع اسامہ سرور کی مولانا فضل الرحمٰن کے متنازعہ بیان کی شدید مذمت pic.twitter.com/c5Ym1m7VJo
— Siddeeq Sajid (@S_SajidOfficial) July 14, 2026
اس معاملے پر حکومتی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع اسامہ سرور نے بھی جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے اس متنازع بیان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے ملکی دفاع کے لیے سرحدوں پر مامور جوانوں کی قربانیوں کی توہین قرار دیا ہے۔