امریکی افواج نے ایران کے خلاف مسلسل چھٹی رات بھی شدید فضائی حملے کیے۔ لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں نے جنوبی ایران کے فوجی اور شہری اہداف کو نشانہ بنایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ حملوں کا مسلسل چھٹا مرحلہ تھا۔ اس میں جدید اور درست نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔
سینٹ کام کے مطابق حملوں کا ہدف ایرانی فوجی تنصیبات، ساحلی نگرانی مراکز، فضائی دفاعی نظام اور بحری عسکری صلاحیتیں تھیں۔ بوشہر میں بحری اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
تازہ بمباری میں ایرانشہر، بندر عباس، بندر خمیر، اہواز اور بوشہر شامل تھے۔ ان حملوں میں 5 پل تباہ ہوئے۔ اس کارروائی میں 7 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے۔ ہلاکتیں بندر خمیر کے پل پر ہونے والے حملے میں ہوئیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ نے شہری انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا۔ بندر عباس میں رہائشی عمارت، مواصلاتی ٹاور اور ریلوے اسٹیشن پر بمباری کی گئی۔
اس حملے کے بعد بندر عباس کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سویلین تنصیبات پر حملوں سے نقصان بڑھ رہا ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو تہران جوابی کارروائی تیز کر سکتا ہے۔
دیکھیے: اسرائیل امریکہ میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے: جے ڈی وینس