یورپی کمیشن نے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس مانیٹرنگ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں پاکستان کو بدستور اس تجارتی مراعاتی اسکیم کا سب سے بڑا مستفید ملک قرار دیا گیا ہے. رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے دوران پاکستان نے 7.5 ارب یورو مالیت کی برآمدات کیں اور 95.1 فیصد کا انتہائی مؤثر یوٹیلائزیشن ریٹ حاصل کیا۔
ان تجارتی رعایتوں کے نتیجے میں پاکستان کو صرف ایک سال میں تقریباً 732 ملین یورو کی خطیر ٹیرف بچت حاصل ہوئی. رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ یورپی یونین پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 28 فیصد حصہ خرید کر اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا، جس میں ٹیکسٹائل، ملبوسات، چمڑے اور تیار خوراک کے شعبوں نے نمایاں فائدہ اٹھایا۔
یورپی رپورٹ نے پاکستان میں انسانی حقوق اور گورننس کے شعبوں میں ہونے والی قانونی پیش رفت کا اعتراف کیا ہے. دستاویز میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو عالمی اے اسٹیٹس ملنے، قومی اقلیتی کمیشن کے قیام کی قانون سازی، اور سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی سمیت دسمبر 2019 سے پھانسیوں پر عملدرآمد کی معطلی کو مثبت اقدامات قرار دیا گیا ہے۔
سماجی شعبے میں خواتین کے تحفظ کے لیے وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبوں میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی مکمل کی جا چکی ہے. محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے پاکستان نے آئی ایل او پروٹوکول کی توثیق کی اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے صوبائی سطح پر نئے ایکشن پلانز تیار کیے، تاہم عسکری و سول ماہرین کے مطابق ان قوانین کے زمین پر نفاذ کو مزید مضبوط بنانا ہو گا۔
ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں پیرس معاہدے اور مونٹریال پروٹوکول کے تحت پاکستان کے بروقت اقدامات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے تحت کیٹیگری 1 کا درجہ حاصل کرنے کو سراہا گیا ہے. مزید برآں، یورپی یونین نے پاکستان کے لیے سال 2021 سے 2027 کے ترقیاتی فنڈز کی مد میں 400 ملین یورو کا عزم دہرایا ہے۔
دیکھیے: پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں ہو سکتا: مصدق ملک