"> افغانستان میں خواتین پر طالبان کے مظالم اور پابندیوں کا سلسلہ تیز
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کابل سے ہرات تک افغان خواتین وحشیانہ تشدد کا شکار، طالبان کا صنفی امتیازی نظام بے نقاب

افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت خواتین کو عوامی زندگی اور روزگار سے بے دخل کر کے بدترین تشدد اور من مانی گرفتاریوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کابل سے ہرات تک افغان خواتین وحشیانہ تشدد کا شکار، طالبان کا صنفی امتیازی نظام بے نقاب

افغانستان میں طالبان دور کے تحت خواتین پر وحشیانہ تشدد کی دستاویزی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق کے اداروں نے سخت ترین صنفی امتیازی قوانین کی شدید مذمت کی ہے۔

July 17, 2026

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے افغان خواتین کو دنیا کے سخت ترین صنفی امتیازی نظام کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق طالبان حکومت کے تحت خواتین کو عوامی زندگی، تعلیم، روزگار اور فیصلہ سازی کے عمل سے مکمل طور پر بے دخل کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی حالیہ ویڈیوز میں کابل، ہرات، مزارِ شریف، بامیان اور تخار سمیت مختلف صوبوں میں خواتین کو سرِ عام تشدد اور من مانی گرفتاریوں کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔

مئی 2026 میں کابل کی سڑکوں پر ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں طالبان کے اخلاقی پولیس اہلکار مبینہ طور پر حجاب کے قواعد کی خلاف ورزی پر ایک خاتون کو سرِ عام بری طرح مارتے دکھائی دیے۔

جون 2026 میں ہرات کے علاقے جبرائیل میں حجاب کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی پر خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے احتجاج پر بھی طالبان فورسز نے براہِ راست فائرنگ کی، جس میں کم از کم دو افراد ہلاک اور قریباً 30 زخمی ہوئے۔

اقوامِ متحدہ کی نائب خصوصی نمائندہ جارجٹ گیگنن نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ طالبان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار، نقل و حرکت کی آزادی اور عوامی زندگی میں شرکت کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔

ماضی میں بھی مزارِ شریف، بامیان اور ہرات جیسے شہروں میں احتجاج کرنے والی طالبات اور خواتین کو طالبان فورسز کی جانب سے تشدد اور اسلحے کی دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔

ان ہولناک واقعات کے باوجود ملک میں طالبان کے احتساب کا کوئی مؤثر یا آزاد نظام موجود نہیں، جس کے باعث ایسے اقدامات میں ملوث اہلکاروں کو عملاً استثنیٰ حاصل ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق 2021 کے بعد سے 22 لاکھ سے زائد افغان طالبات ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے حق سے محروم ہو چکی ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ افغان خواتین کو بنیادی آزادیوں سے محروم کر کے گھروں تک محدود کرنا انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *