افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے افغان خواتین کو دنیا کے سخت ترین صنفی امتیازی نظام کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق طالبان حکومت کے تحت خواتین کو عوامی زندگی، تعلیم، روزگار اور فیصلہ سازی کے عمل سے مکمل طور پر بے دخل کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی حالیہ ویڈیوز میں کابل، ہرات، مزارِ شریف، بامیان اور تخار سمیت مختلف صوبوں میں خواتین کو سرِ عام تشدد اور من مانی گرفتاریوں کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔
مئی 2026 میں کابل کی سڑکوں پر ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں طالبان کے اخلاقی پولیس اہلکار مبینہ طور پر حجاب کے قواعد کی خلاف ورزی پر ایک خاتون کو سرِ عام بری طرح مارتے دکھائی دیے۔
جون 2026 میں ہرات کے علاقے جبرائیل میں حجاب کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی پر خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے احتجاج پر بھی طالبان فورسز نے براہِ راست فائرنگ کی، جس میں کم از کم دو افراد ہلاک اور قریباً 30 زخمی ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کی نائب خصوصی نمائندہ جارجٹ گیگنن نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ طالبان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار، نقل و حرکت کی آزادی اور عوامی زندگی میں شرکت کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔
ماضی میں بھی مزارِ شریف، بامیان اور ہرات جیسے شہروں میں احتجاج کرنے والی طالبات اور خواتین کو طالبان فورسز کی جانب سے تشدد اور اسلحے کی دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔
ان ہولناک واقعات کے باوجود ملک میں طالبان کے احتساب کا کوئی مؤثر یا آزاد نظام موجود نہیں، جس کے باعث ایسے اقدامات میں ملوث اہلکاروں کو عملاً استثنیٰ حاصل ہے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق 2021 کے بعد سے 22 لاکھ سے زائد افغان طالبات ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کے حق سے محروم ہو چکی ہیں۔
اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ افغان خواتین کو بنیادی آزادیوں سے محروم کر کے گھروں تک محدود کرنا انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔