برطانیہ نے افغانستان کے عوام کے لیے اپنی مسلسل حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے نئی امداد کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی حکومت نے بتایا ہے کہ وہ 2026 سے 2029 تک ہر سال 105 ملین پاؤنڈ فراہم کرے گی، جو مجموعی طور پر 315 ملین پاؤنڈ بنتے ہیں۔
دفتر خارجہ کے پارلیمانی انڈر سیکرٹری ہیمِش فالکنر کے مطابق یہ امداد صحت، غذائیت، تعلیم، روزگار اور موسمیاتی لچک کے شعبوں میں خرچ کی جائے گی۔ بیان کے مطابق اس امداد کا کم از کم نصف حصہ خواتین اور لڑکیوں تک پہنچانا یقینی بنایا جائے گا۔
برطانوی حکام کے مطابق رواں سال افغانستان میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہو گی، جن میں سے 1 کروڑ 74 لاکھ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ 2026 میں قریباً 50 لاکھ خواتین، لڑکیوں اور بچوں کو غذائی قلت کے علاج کی ضرورت ہو گی۔
تاہم برطانیہ نے اپنے بیان میں دہرایا کہ طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی ثانوی و اعلیٰ تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی میں شرکت پر پابندیاں بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزی ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان کے پانچ سالہ اقتدار کے باوجود خواتین تعلیم اور روزگار سے محروم ہیں، جس کے باعث مالی امداد میں تسلسل کو پالیسی تضاد قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان میں فنڈز کی کمی کے باعث سینکڑوں صحت مراکز بند ہو چکے ہیں، جبکہ ملک کا صحتی نظام بڑی حد تک عوام کی جیب سے ہونے والے اخراجات پر منحصر ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی ٹیم کی حالیہ رپورٹس کے مطابق افغانستان بدستور متعدد بین الاقوامی و علاقائی عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
امریکی ادارے سگار کی رپورٹس میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول مرکزی بینک کے ذریعے منتقل ہونے والی رقوم کے حتمی استعمال کی مکمل ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
ناقدین کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری کا طالبان حکومت کے ساتھ تعاون انسانی حقوق اور دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات سے مشروط ہونا چاہیے۔
دیکھیے: کابل سے ہرات تک افغان خواتین وحشیانہ تشدد کا شکار، طالبان کا صنفی امتیازی نظام بے نقاب