کابل: افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان حکومت کے خلاف جاری مزاحمت میں اس وقت ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جب ایک مقامی مزاحمتی گروہ نے کارروائی کرتے ہوئے ضلع یفتل کا کنٹرول طالبان سے چھین لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران مزاحمتی گروپ نے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں موجود طالبان کا بھاری عسکری سازوسامان اور اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ بدخشاں میں کسی ضلع کا کنٹرول کھونا طالبان حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جسے مبصرین آنے والی مزید کارروائیوں کا آغاز دیکھ رہے ہیں۔
سفارتی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ مخالف گروہوں کا دعویٰ ہے کہ افغان عوام کی اکثریت طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جس کے باعث طالبان جنگجوؤں کو ملک گیر سطح پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔
یک گروه نظامی تازهتأسیس ضد طالبان به نام «جبهه سپاهیان میهن» شب گذشته کنترول ولسوالی یفتل در بدخشان را برای ساعاتی از دست طالبان خارج کرد.
— افغانستان اینترنشنال (@AFIntlBrk) July 17, 2026
به گفته منابع، نیروهای این جبهه پس از حمله به مقرهای طالبان، مقداری زیاد سلاح و تجهیزات نظامی را نیز با خود بردند. طالبان پس از اعزام… pic.twitter.com/3WghbmPjjI
دوسری جانب سیاسی ناقدین کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے تحریکِ طالبان پاکستان سمیت دیگر مسلح تنظیموں کے ساتھ مسلسل روابط اور پشت پناہی کی پالیسی نے افغان عوام اور ملک کے وسیع تر مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس پالیسی کے باعث افغانستان بین الاقوامی برادری میں تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق طالبان کو اقتدار پر قابض ایک غیر منتخب قوت قرار دیا جاتا ہے، جن کے گزشتہ پانچ سالہ دورِ حکومت میں سخت نظریاتی پالیسیوں نے ملک کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ اس عرصے کے دوران افغانستان میں غربت، معاشی مشکلات اور عوامی پابندیوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور ناقدین کا مؤقف ہے کہ ملک میں عدالتی طریقہ کار کی عدم موجودگی، سرِعام سخت سزائیں، بیہمانہ نظامِ تعزیرات اور خواتین کے حقوق پر عائد کردہ سخت ترین پابندیاں دراصل ریاستی سطح پر تشدد کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔
ان سخت گیر اقدامات نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں طالبان مخالف گروہ مختلف علاقوں میں منظم ہو کر تہران یا کابل کے کنٹرول کو براہِ راست چیلنج کر رہے ہیں۔