"> افغانستان بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمت میں اضافہ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بدخشاں میں طالبان کو بڑا دھچکا، مزاحمتی گروہ نے ضلع یفتل کا کنٹرول سنبھال لیا

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
افغانستان بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمت میں اضافہ

افغانستان کے صوبے بدخشاں کے ضلع یفتل میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائی، علاقائی کنٹرول اور عسکری سازوسامان پر قبضے کے بعد ملک بھر میں طالبان مخالف سرگرمیوں میں شدت آ گئی ہے۔

July 17, 2026

کابل: افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان حکومت کے خلاف جاری مزاحمت میں اس وقت ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جب ایک مقامی مزاحمتی گروہ نے کارروائی کرتے ہوئے ضلع یفتل کا کنٹرول طالبان سے چھین لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران مزاحمتی گروپ نے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں موجود طالبان کا بھاری عسکری سازوسامان اور اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ بدخشاں میں کسی ضلع کا کنٹرول کھونا طالبان حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جسے مبصرین آنے والی مزید کارروائیوں کا آغاز دیکھ رہے ہیں۔

سفارتی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ مخالف گروہوں کا دعویٰ ہے کہ افغان عوام کی اکثریت طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جس کے باعث طالبان جنگجوؤں کو ملک گیر سطح پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔

دوسری جانب سیاسی ناقدین کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے تحریکِ طالبان پاکستان سمیت دیگر مسلح تنظیموں کے ساتھ مسلسل روابط اور پشت پناہی کی پالیسی نے افغان عوام اور ملک کے وسیع تر مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس پالیسی کے باعث افغانستان بین الاقوامی برادری میں تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق طالبان کو اقتدار پر قابض ایک غیر منتخب قوت قرار دیا جاتا ہے، جن کے گزشتہ پانچ سالہ دورِ حکومت میں سخت نظریاتی پالیسیوں نے ملک کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ اس عرصے کے دوران افغانستان میں غربت، معاشی مشکلات اور عوامی پابندیوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور ناقدین کا مؤقف ہے کہ ملک میں عدالتی طریقہ کار کی عدم موجودگی، سرِعام سخت سزائیں، بیہمانہ نظامِ تعزیرات اور خواتین کے حقوق پر عائد کردہ سخت ترین پابندیاں دراصل ریاستی سطح پر تشدد کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔

ان سخت گیر اقدامات نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں طالبان مخالف گروہ مختلف علاقوں میں منظم ہو کر تہران یا کابل کے کنٹرول کو براہِ راست چیلنج کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *