شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

September 1, 2026

اسلام آباد کانفرنس میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر حکمرانی، خواتین کے حقوق اور سکیورٹی خطرات زیر بحث۔

September 1, 2026

لاہور جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو باہر نکال لیا گیا، فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔

September 1, 2026

پاکستان 2026-27 کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کونسل کی صدارت سنبھالے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے اعلامیے پر دستخط کردیئے۔

September 1, 2026

بدخشاں میں طالبان کو بڑا دھچکا، مزاحمتی گروہ نے ضلع یفتل کا کنٹرول سنبھال لیا

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی گروہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ضلع یفتل کا کنٹرول حاصل کر کے وہاں موجود اسلحہ اور فوجی سازوسامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
افغانستان بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمت میں اضافہ

افغانستان کے صوبے بدخشاں کے ضلع یفتل میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائی، علاقائی کنٹرول اور عسکری سازوسامان پر قبضے کے بعد ملک بھر میں طالبان مخالف سرگرمیوں میں شدت آ گئی ہے۔

July 17, 2026

کابل: افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں طالبان حکومت کے خلاف جاری مزاحمت میں اس وقت ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جب ایک مقامی مزاحمتی گروہ نے کارروائی کرتے ہوئے ضلع یفتل کا کنٹرول طالبان سے چھین لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران مزاحمتی گروپ نے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں موجود طالبان کا بھاری عسکری سازوسامان اور اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ بدخشاں میں کسی ضلع کا کنٹرول کھونا طالبان حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جسے مبصرین آنے والی مزید کارروائیوں کا آغاز دیکھ رہے ہیں۔

سفارتی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ مخالف گروہوں کا دعویٰ ہے کہ افغان عوام کی اکثریت طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جس کے باعث طالبان جنگجوؤں کو ملک گیر سطح پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔

دوسری جانب سیاسی ناقدین کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے تحریکِ طالبان پاکستان سمیت دیگر مسلح تنظیموں کے ساتھ مسلسل روابط اور پشت پناہی کی پالیسی نے افغان عوام اور ملک کے وسیع تر مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس پالیسی کے باعث افغانستان بین الاقوامی برادری میں تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق طالبان کو اقتدار پر قابض ایک غیر منتخب قوت قرار دیا جاتا ہے، جن کے گزشتہ پانچ سالہ دورِ حکومت میں سخت نظریاتی پالیسیوں نے ملک کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ اس عرصے کے دوران افغانستان میں غربت، معاشی مشکلات اور عوامی پابندیوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور ناقدین کا مؤقف ہے کہ ملک میں عدالتی طریقہ کار کی عدم موجودگی، سرِعام سخت سزائیں، بیہمانہ نظامِ تعزیرات اور خواتین کے حقوق پر عائد کردہ سخت ترین پابندیاں دراصل ریاستی سطح پر تشدد کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔

ان سخت گیر اقدامات نے عوامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں طالبان مخالف گروہ مختلف علاقوں میں منظم ہو کر تہران یا کابل کے کنٹرول کو براہِ راست چیلنج کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے جواب میں ایران کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی دھمکی دے دی۔

September 1, 2026

سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی پر ان کی طویل سیاسی جدوجہد، نظریاتی ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔

September 1, 2026

اسلام آباد کانفرنس میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر حکمرانی، خواتین کے حقوق اور سکیورٹی خطرات زیر بحث۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *