"> پاک چین فارما کانفرنس؛ 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاک چین فارما کانفرنس؛ 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے

اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بزنس کانفرنس میں فارماسیوٹیکل شعبے کے مابین 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے، جس کے تحت ٹیکنالوجی منتقل اور مقامی طور پر ویکسین تیار ہوگی۔
پاک چین فارما کانفرنس؛ 44 کروڑ ڈالرز مالیت کے 9 معاہدے طے

پاکستان اور چین کی فارما کمپنیوں کے مابین بائیو ٹیکنالوجی، ویکسین کی مقامی تیاری اور ادویات کی مینوفیکچرنگ کے لیے 44 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے 9 معاہدے طے پا گئے ہیں۔

July 17, 2026

اسلام آباد: پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان فارماسیوٹیکل کے شعبے میں 44 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے 9 تاریخی معاہدے طے پا گئے ہیں۔ ان معاہدوں میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی، ادویات کی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے منصوبے شامل ہیں۔

یہ پیش رفت اسلام آباد میں منعقدہ ‘پاکستان اور چین فارماسیوٹیکلز بزنس ٹو بزنس کانفرنس’ میں سامنے آئی۔ اس اعلیٰ سطحی کانفرنس میں دونوں ممالک کی 450 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی، جن میں 300 سے زائد پاکستانی اور 150 چینی کمپنیاں شامل تھیں۔ تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، وفاقی وزراء، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں اور چین کے سفیر نے شرکت کی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نجی شعبوں کے مابین اس اشتراک کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان معاہدوں سے پاکستان میں فارماسیوٹیکلز کے شعبے کو نئی زندگی ملے گی۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا سب سے قابل اعتماد دوست قرار دیتے ہوئے سی پیک کے پہلے فیز کے تحت 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ذکر کیا اور یقین دلایا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔

اپنے خطاب کے دوران وزیرِ اعظم نے خطے کے حالیہ سفارتی بحران کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی چینی صدر شی جن پنگ نے بھی بھرپور حمایت کی۔ وزیرِ اعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کا حوالہ دیتے ہوئے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی انتھک کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے کانفرنس کو مینوفیکچرنگ کے میدان میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ چینی سرمایہ کار پاکستان میں مزید 700 معاہدے کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اب تک دونوں ممالک کے درمیان 50 کروڑ ڈالر کے سرمایہ کاری کے معاہدے مکمل ہو چکے ہیں۔

چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے اس موقع پر کہا کہ بیجنگ صحت، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور مقامی مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں اسلام آباد کے ساتھ اپنا مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 29 ادویات پہلے ہی چینی منڈی کا حصہ بن چکی ہیں اور جاری منصوبوں سے مقامی سطح پر 20 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

واضح رہے کہ کانفرنس کے دوران سرمایہ کاروں کی فوری معاونت اور لائسنسنگ کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور ایس آئی ایف سی کے خصوصی ڈیسکس بھی قائم کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق ان معاہدوں سے ادویات کی درآمد پر انحصار کم ہوگا اور پاکستان خطے میں فارما مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھرے گا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *