اسلام آباد: پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان فارماسیوٹیکل کے شعبے میں 44 کروڑ ڈالرز سے زائد مالیت کے 9 تاریخی معاہدے طے پا گئے ہیں۔ ان معاہدوں میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی، ادویات کی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے منصوبے شامل ہیں۔
یہ پیش رفت اسلام آباد میں منعقدہ ‘پاکستان اور چین فارماسیوٹیکلز بزنس ٹو بزنس کانفرنس’ میں سامنے آئی۔ اس اعلیٰ سطحی کانفرنس میں دونوں ممالک کی 450 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی، جن میں 300 سے زائد پاکستانی اور 150 چینی کمپنیاں شامل تھیں۔ تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف، وفاقی وزراء، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں اور چین کے سفیر نے شرکت کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نجی شعبوں کے مابین اس اشتراک کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان معاہدوں سے پاکستان میں فارماسیوٹیکلز کے شعبے کو نئی زندگی ملے گی۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا سب سے قابل اعتماد دوست قرار دیتے ہوئے سی پیک کے پہلے فیز کے تحت 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ذکر کیا اور یقین دلایا کہ پاکستان میں چینی شہریوں کی سلامتی کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔
اپنے خطاب کے دوران وزیرِ اعظم نے خطے کے حالیہ سفارتی بحران کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی چینی صدر شی جن پنگ نے بھی بھرپور حمایت کی۔ وزیرِ اعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کا حوالہ دیتے ہوئے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی انتھک کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے کانفرنس کو مینوفیکچرنگ کے میدان میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ چینی سرمایہ کار پاکستان میں مزید 700 معاہدے کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور اب تک دونوں ممالک کے درمیان 50 کروڑ ڈالر کے سرمایہ کاری کے معاہدے مکمل ہو چکے ہیں۔
چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے اس موقع پر کہا کہ بیجنگ صحت، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور مقامی مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں اسلام آباد کے ساتھ اپنا مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 29 ادویات پہلے ہی چینی منڈی کا حصہ بن چکی ہیں اور جاری منصوبوں سے مقامی سطح پر 20 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
واضح رہے کہ کانفرنس کے دوران سرمایہ کاروں کی فوری معاونت اور لائسنسنگ کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ڈریپ، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور ایس آئی ایف سی کے خصوصی ڈیسکس بھی قائم کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق ان معاہدوں سے ادویات کی درآمد پر انحصار کم ہوگا اور پاکستان خطے میں فارما مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھرے گا۔