"> اسرو سے 120 سائنسدانوں کے استعفے، مودی حکومت نے ریٹائرمنٹ پالیسی سخت کر دی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بھارتی خلائی ادارے اسرو کو ماہر سائنسدانوں کی کمی کا سامنا، مودی پریشان

بھارتی خلائی ادارے اسرو سے 120 سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی حکومت نے ریٹائرمنٹ کے قواعد سخت کر دیے۔ نجی خلائی شعبے کی تیزی سے ترقی اور بہتر معاوضوں کے باعث ماہر سائنسدان سرکاری ادارہ چھوڑنے لگے۔
بھارتی خلائی ادارے اسرو کو ماہر سائنسدانوں کی کمی کا سامنا، مودی پریشان

بھارتی خلائی ادارے اسرو سے 120 سائنسدانوں کے استعفوں کے بعد مودی حکومت نے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کے قواعد سخت کر دیے، نجی خلائی کمپنیوں کی جانب ماہرین کا رجحان بڑھنے لگا۔

July 18, 2026

بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے اسرو کو اپنے تجربہ کار سائنسدانوں کے تسلسل سے استعفے دینے کا سامنا ہے، جس کے بعد مودی حکومت نے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور استعفوں سے متعلق ضوابط کو مزید سخت بنا دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ادارے سے اب تک 120 سائنسدان مستعفی ہو چکے ہیں، جس کے پیشِ نظر محکمہ خلا نے نئی، سخت پالیسی جاری کی ہے تاکہ افرادی قوت کے اخراج کو روکا جا سکے۔

نئی پالیسی کے تحت اب کسی سائنسدان کی رضاکارانہ ریٹائرمنٹ سے متعلق درخواست کا فیصلہ متعلقہ شعبے کا سربراہ خود نہیں کر سکے گا۔ اس کے بجائے ہر درخواست کی سماعت اور حتمی منظوری کا اختیار براہِ راست اسرو کے مرکزی ہیڈکوارٹر کو دیا گیا ہے، تاکہ عمل پر مرکزی سطح پر نظر رکھی جا سکے۔

گگن یان جیسے منصوبوں پر اثرات

محکمہ خلا کے مطابق حالیہ مہینوں میں اسرو کے انجینیئرز اور سائنسدانوں کی جانب سے، خاص طور پر گگن یان اور دیگر اہم خلائی پروگراموں سے وابستہ ماہرین میں، استعفوں اور ریٹائرمنٹ کی درخواستوں میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ادارے کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

نجی شعبے کی جانب رجحان؟

بھارتی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ سرکاری اداروں کا پرانا اور سست انتظامی ڈھانچہ، ترقی کے محدود مواقع اور نسبتاً کم تنخواہیں سائنسدانوں کی عدم اطمینان کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے مقابلے میں نجی خلائی کمپنیاں بہتر مالی پیکیج اور ترقی کے زیادہ مواقع پیش کر رہی ہیں، جو انہیں سرکاری ادارے چھوڑنے پر آمادہ کر رہی ہیں۔

نجی خلائی شعبے

رپورٹ کے مطابق 2020 میں بھارت نے خلائی شعبے کو نجی سرمایہ کاری کے لیے کھولا تھا، جس کے بعد سے اب تک ملک بھر میں 400 سے زائد اسپیس اسٹارٹ اپس قائم ہو چکے ہیں۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ اسی تیز رفتار نجی نمو نے اسرو کے لیے تجربہ کار افرادی قوت کو اپنے پاس برقرار رکھنا ایک سنگین چیلنج بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *