میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے آپشنز کا جائزہ لیا ہے، جن میں ایرانی جوہری تنصیبات پر مزید حملے بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔
ساتھ ہی یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ امریکا اسرائیل کو درجنوں اضافی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے بھیجنے پر غور کر رہا ہے، تاکہ اگر فوجی کارروائیاں وسیع ہوں تو فضائی آپریشنز کی صلاحیت برقرار رکھی جا سکے۔
تاہم ابھی امریکا کی جانب سے نئے حملوں کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ یہ اطلاعات امریکی حکام کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس پر مبنی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ مختلف عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔
اگر یہ منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے، ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی اور عالمی منڈیوں خصوصاً تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔