جی ایس پی پلس رپورٹ میں افغان مہاجرین کا تذکرہ، پاکستان کا یورپی یونین کے مؤقف پر تحفظات کا اظہار

پاکستان کا یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ پر ردعمل، کہا گیا کہ افغان مہاجرین کی چار دہائیوں پر محیط میزبانی اور قربانیوں کو نظرانداز کیا گیا۔
جی ایس پی پلس رپورٹ میں افغان مہاجرین کا تذکرہ؛ پاکستان کا یورپی یونین کے یکطرفہ مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار

پاکستان نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی چار دہائیوں پر محیط میزبانی کو نظرانداز کیا گیا۔

July 19, 2026

پاکستان نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس کنٹری اسیسمنٹ رپورٹ (2023-2025) میں اٹھائے گئے نکات پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کی چار دہائیوں پر محیط انسانی ہمدردانہ خدمات کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی جی ایس پی پلس کنٹری اسیسمنٹ رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے اسکیم کے تحت 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور طرزِ حکمرانی سے متعلق پیش رفت کا احاطہ کیا گیا ہے، جبکہ قوانین کے مؤثر نفاذ کو بھی اہم چیلنج قرار دیا گیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن کی رپورٹ افغان شہریوں کی وطن واپسی کا ذکر کرتی ہے، جن میں کم از کم 10 فیصد افراد کو ملک بدر کیا گیا، تاہم رپورٹ اس حقیقت کو نظرانداز کرتی ہے کہ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کا بوجھ اٹھاتا رہا ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد صرف محدود تعداد میں افغان شہری پاکستان آئے، جنہیں دراصل امریکا اور یورپی ممالک میں دوبارہ آباد کیا جانا تھا کیونکہ انہی ممالک نے تحفظ کے وعدے کیے تھے، مگر ان میں سے بیشتر پاکستان میں ہی منتظر رہے۔

پاکستان نے واضح کیا کہ اس نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، جس کی بھاری معاشی، سماجی اور سیکیورٹی قیمت چکائی گئی، جبکہ اس کے برعکس یورپ پہنچنے والے نسبتاً کم تعداد کے مہاجرین بھی متعدد یورپی ممالک میں بڑا سیاسی مسئلہ اور انتخابی مہمات کا موضوع بن چکے ہیں۔ پاکستان نے اپنی معاشی مشکلات کے باوجود مہاجرین کو پناہ، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے۔

پاکستانی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری متعدد مواقع پر پاکستان کے کردار کو دنیا کی سب سے بڑی اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی مہاجر میزبانی کے طور پر سراہ چکی ہے، تاہم ایسی رپورٹس میں اس خدمت کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان نے یہ بھی زور دیا کہ ہر خودمختار ریاست کو اپنے قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق غیرقانونی تارکینِ وطن کو واپس بھیجنے اور امیگریشن قوانین نافذ کرنے کا حق حاصل ہے، اور پاکستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ رپورٹ چار دہائیوں پر محیط انسانی ہمدردی پر مبنی خدمات کو تسلیم کرنے کے بجائے صرف حالیہ واپسی کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جبکہ اس بھاری مالی، سماجی اور سیکیورٹی بوجھ کو نظرانداز کرتی ہے جو پاکستان گزشتہ 40 برس سے برداشت کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی عوام سے تنگ آنے پر وہ اسرائیل کے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے اسرائیل میں 99 فیصد مقبولیت کا دعویٰ بھی کیا۔

November 5, 2026

سعودی عرب اور شام نے دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے، دونوں ممالک کا بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی سلامتی پر زور۔

November 5, 2026

میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو نجی اجلاس کے دوران زہر دیے جانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

November 4, 2026

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست، ڈیموکریٹس نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *