ظلم کی رات کبھی دائمی نہیں ہوتی ۔۔
تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ہمیشہ خود کو ناقابلِ شکست سمجھتا ہے۔۔ وہ طاقت کے نشے میں یہ بھول جاتا ہے کہ تلوار خوف تو پیدا کر سکتی ہے ۔۔ مگر وفاداری نہیں، جبر خاموشی تو خرید سکتا ہے، مگر ضمیر نہیں۔۔
ہر دور میں ایک ایسا لمحہ آیا جب مظلوم کے پاس ہتھیار کم تھے، مگر حوصلہ بلند تھا۔۔ ظالم کے پاس لشکر تھے، مگر سچ اس کے ساتھ نہیں تھا۔۔ وقت گزرتا گیا، ظلم اپنی طاقت پر ناز کرتا رہا، جبکہ مظلوم صبر، استقامت اور امید کے چراغ جلائے رہا۔۔
پھر تاریخ نے ہمیشہ ایک ہی فیصلہ سنایا ، ظلم کی سلطنتیں مٹ گئیں، مگر حق کی آواز باقی رہی۔۔
محلات کھنڈرات بن گئے، تخت الٹ گئے اور وہ نام جو کبھی خوف کی علامت تھے، عبرت کی مثال بن گئے۔۔
بھارت میں جو اس وقت ہورہا ہے ۔۔ اگرچہ اس کا نتیجہ فی الفور ظلم سے نجات نہ بھی ہو ۔۔ لیکن یہ اس بات کی بنیاد ہے کہ ظلم مٹنے والا ہے۔۔
بھارت میں امتحانی نظام پر اٹھنے والے سوالات اب صرف تعلیمی بحران نہیں رہے، بلکہ ایک سیاسی اور انسانی حقوق کے مسئلے میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔۔
لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کرنے والے مبینہ پیپر لیک اسکینڈلز کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب ریاستی ردِعمل کی وجہ سے مزید سنگین صورت اختیار کر رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں بھارت کے مختلف شہروں میں طلبہ نے امتحانی شفافیت، احتساب اور اصلاحات کے مطالبے کے لیے احتجاج کیا۔ یہ احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مبینہ طور پر NEETسمیت اہم امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے الزامات سامنے آئے۔ بعض رپورٹس کے مطابق صرف ایک قومی میڈیکل انٹری ٹیسٹ سے تقریباً 20 لاکھ سے زائد امیدوار متاثر ہوئے، جس کے بعد پورے ملک میں احتجاج کی لہر پھیل گئی۔
مظاہرین اور متعدد میڈیا رپورٹس کا دعویٰ ہے کہ احتجاج روکنے کے لیے پولیس نے کئی مقامات پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور طاقت کا استعمال کیا۔ تاہم طلبہ پر پیلٹ گنز کے استعمال کے دعوے متنازع ہیں۔ بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کی تردید کی ہے، جبکہ آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ موجودہ پیپر لیک احتجاج میں پیلٹ گنز استعمال کی گئی ہیں۔
البتہ یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ بھارت، خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں، ماضی میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنز استعمال کرتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان ہتھیاروں سے آنکھوں اور جسم پر ہونے والی شدید چوٹوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر لاکھوں نوجوان امتحانی شفافیت، میرٹ اور اپنے مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیا ان کی آواز کا جواب طاقت سے دیا جانا چاہیے یا اصلاحات سے؟ ایک ایسا ملک جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، وہاں نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی صرف بیانات سے نہیں بلکہ شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور غیر ضروری طاقت کے استعمال سے گریز کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
تعلیم کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہے۔ اگر امتحان پر اعتماد ختم ہو جائے اور احتجاج کرنے والے طلبہ خود کو غیر محفوظ محسوس کریں، تو مسئلہ صرف ایک پیپر لیک نہیں رہتا، بلکہ ریاست اور اپنی نئی نسل کے درمیان اعتماد کے رشتے کا بحران بن جاتا ہے۔۔