تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گرد عثمان کی والدہ نے اپنے بیٹے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کا عثمان کے کسی بھی عمل یا سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کے مطابق عثمان کچھ عرصہ قبل اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر الگ ہو گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد سے وہ اپنے تمام فیصلے خود کر رہا ہے۔ عثمان کی والدہ کا کہنا تھا کہ بعد میں اس نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اس سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ، ان کے شوہر اور خاندان کے دیگر افراد عثمان کی کسی بھی سرگرمی کی نہ حمایت کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنا ضروری تھا تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی باقی نہ رہے۔
ان کے مطابق عثمان اپنے تمام ذاتی فیصلوں اور اقدامات کا خود ذمہ دار ہے، جبکہ خاندان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے اعلانات دہشت گردی کے خلاف عوامی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق حالیہ عرصے میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں خاندانوں کی جانب سے دہشت گردی میں ملوث افراد سے علی الاعلان لاتعلقی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کا مظہر ہے کہ عام شہری اب دہشت گردی کو اپنے علاقوں اور معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول سمجھتے ہوئے کھل کر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
دیکھیے: بدخشاں میں طالبان کو سخت مزاحمت کا سامنا، فریڈم فرنٹ کا پیش قدمی کا دعویٰ