افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری کے ایک مسلح حملے میں قتل کے بعد ملک کی سییورٹی صورتحال اور طالبان انتظامیہ کی داخلی گرفت کے حوالے سے بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے۔
بدخشاں کے سکیورٹی کمانڈ کے ترجمان احسان اللہ کنگر کے مطابق یہ واقعہ فیض آباد بہارک روڈ پر پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح افراد نے ذبیح اللہ امیری پر اچانک فائرنگ کر دی۔
واقعے کی تفصیلات
ترجمان سکیورٹی کمانڈ نے تصدیق کی کہ اس اچانک حملے کے نتیجے میں ذبیح اللہ امیری موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ان کے محافظوں نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر کے مفرور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے، تاہم ابھی تک کسی مسلح گروپ نے اس حملے کی مسئولیت باضابطہ طور پر قبول نہیں کی۔
طالبان کے خدشات
افغان امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ملک میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب افغانستان کے عام لوگ طالبان کے سخت رویوں اور کارروائیوں کے خوف سے ان کے سامنے آنے سے ڈرتے تھے اور کھلے عام آواز اٹھانے سے گریزاں تھے۔
تاہم موجودہ حالات میں یہ منظرنامہ بدلتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی عدم اطمینان، عوامی حقوق کی سلب ورزی اور مسلسل مزاحمتی واقعات کے باعث اب طالبان اہلکار خود عوامی سطح پر بے جا گھلنے ملنے یا غیر محفوظ طریقے سے سامنے آنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
سکیورٹی چیلنجز
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ طالبان کے اتنے اہم عہدیدار کا دن دہاڑے نشانہ بننا اس مؤقف پر سوالیہ نشان ہے کہ ملک بھر میں امن و امان مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق محدود سیاسی شمولیت اور معاشی ناخوشگواری کے باعث بدخشاں سمیت متعدد علاقوں میں بے چینی اور مزاحمتی عناصر کے اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اگرچہ طالبان انتظامیہ کا یہی مؤقف ہے کہ سیکیورٹی صورتحال مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے، تاہم یہ واقعہ افغانستان میں موجود سنگین سکیورٹی چیلنجز اور طالبان حکومت کو درپیش داخلی و خارجی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
دیکھیے: امارتِ اسلامیہ، معیارِ خلافت اور افغان مزاحمت: دعوؤں سے زمینی حقائق تک