لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بدخشاں میں اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری مسلح حملے میں ہلاک

بدخشاں میں طالبان حکومت کے اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری مسلح حملے میں ہلاک؛ سکیورٹی صورتحال، طالبان کی داخلی گرفت اور عوامی رویوں پر سنگین سوالات۔
بدخشاں: طالبان کے اہم رہنما ذبیح اللہ امیری مسلح حملے میں ہلاک

بدخشاں میں طالبان کے اہم رہنما ذبیح اللہ امیری کے قتل سے سییورٹی چیلنجز پھر نمایاں۔ ماضی میں طالبان سے خوفزدہ رہنے والے عوام کا اب بدلتا رویہ اور انتظامیہ کی بڑھتی پریشانی۔

July 28, 2026

افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری کے ایک مسلح حملے میں قتل کے بعد ملک کی سییورٹی صورتحال اور طالبان انتظامیہ کی داخلی گرفت کے حوالے سے بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے۔

بدخشاں کے سکیورٹی کمانڈ کے ترجمان احسان اللہ کنگر کے مطابق یہ واقعہ فیض آباد بہارک روڈ پر پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح افراد نے ذبیح اللہ امیری پر اچانک فائرنگ کر دی۔

واقعے کی تفصیلات

ترجمان سکیورٹی کمانڈ نے تصدیق کی کہ اس اچانک حملے کے نتیجے میں ذبیح اللہ امیری موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ان کے محافظوں نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر کے مفرور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے، تاہم ابھی تک کسی مسلح گروپ نے اس حملے کی مسئولیت باضابطہ طور پر قبول نہیں کی۔

طالبان کے خدشات

افغان امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ملک میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب افغانستان کے عام لوگ طالبان کے سخت رویوں اور کارروائیوں کے خوف سے ان کے سامنے آنے سے ڈرتے تھے اور کھلے عام آواز اٹھانے سے گریزاں تھے۔

تاہم موجودہ حالات میں یہ منظرنامہ بدلتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں بڑھتی ہوئی عدم اطمینان، عوامی حقوق کی سلب ورزی اور مسلسل مزاحمتی واقعات کے باعث اب طالبان اہلکار خود عوامی سطح پر بے جا گھلنے ملنے یا غیر محفوظ طریقے سے سامنے آنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

سکیورٹی چیلنجز

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ طالبان کے اتنے اہم عہدیدار کا دن دہاڑے نشانہ بننا اس مؤقف پر سوالیہ نشان ہے کہ ملک بھر میں امن و امان مکمل طور پر بحال ہو چکا ہے۔ ناقدین کے مطابق محدود سیاسی شمولیت اور معاشی ناخوشگواری کے باعث بدخشاں سمیت متعدد علاقوں میں بے چینی اور مزاحمتی عناصر کے اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اگرچہ طالبان انتظامیہ کا یہی مؤقف ہے کہ سیکیورٹی صورتحال مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے، تاہم یہ واقعہ افغانستان میں موجود سنگین سکیورٹی چیلنجز اور طالبان حکومت کو درپیش داخلی و خارجی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

دیکھیے: امارتِ اسلامیہ، معیارِ خلافت اور افغان مزاحمت: دعوؤں سے زمینی حقائق تک

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *