افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قائم ہونے کے بعد دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک دائمی امن اور استحکام کی سمت گامزن ہو چکا ہے۔ تاہم، موجودہ حالات اور حالیہ پیش رفت اس دعوے کے برعکس ایک تشویشناک تصویر پیش کرتی ہیں۔ افغانستان اس وقت تیزی سے پھیلتی عسکری مزاحمت اور سنگین انسانی حقوق کے بحران کی زد میں ہے۔ مختلف علاقوں سے سامنے آنے والے واقعات اور مذہبی و عوامی حلقوں کا ردِعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ طالبان انتظامیہ کو ایک غیر معمولی اور ہمہ جہت چیلنج کا سامنا ہے۔
سکیورٹی محاذ پر طالبان کے لیے سب سے بڑا موڑ بدخشاں کے سیکیورٹی حالات ہیں۔ صوبہ بدخشاں میں طالبان حکومت کے شعبہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری کی فیض آباد بہارک روڈ پر دن دہاڑے ہلاکت نے انتظامیہ کی داخلی گرفت کی حقیقت واضح کر دی ہے۔ ماضی میں طالبان کا خوف اس قدر تھا کہ عام شہری ان کے سامنے آواز اٹھانے سے گریز کرتے تھے، لیکن اب یہ منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ آج، جب ایک اعلیٰ طالبان عہدیدار کھلی سڑک پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تو یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا خوف کی سمت اب تبدیل ہو چکی ہے؟ کیا وہ لوگ جو کبھی طالبان کے سامنے سہمے رہتے تھے، اب طالبان خود عوام کے ردعمل سے خوفزدہ ہونے لگے ہیں۔
عسکری مزاحمت اب محض بدخشاں اور پنجشیر کی وادیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کا دائرہ کار جنوب مغربی صوبے نیمروز تک پھیل چکا ہے۔ شمالی لبریشن فرنٹ کی جانب سے بدخشاں کے ضلع زیبک میں جوابی کارروائیاں اور نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کا نیمروز کے ضلع کنگ میں طالبان کی چوکی کو نشانہ بنا کر سرکاری عمارت میں داخل ہونا، اسلحہ قبضے میں لینا اور جانی نقصان پہنچانا اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان مخالف گروہ اب مختلف خطوں میں متحرک ہو رہا ہے۔ پنجشیر اور بدخشاں کے بعد نیمروز کا مسلح کارروائیوں کا مرکز بننا طالبان کی عسکری صلاحیتوں اور پھیلاؤ کے لیے ایک معقول امتحان ہے۔
اس عسکری دباؤ کے ساتھ ساتھ طالبان کے بیانیے کو مذہبی سطح پر بھی شدید چیلنج کا سامنا ہے۔ افغانستان کے سابق صدرِ مساجد اور جید عالمِ دین مولوی فضل کریم سراجی کی جانب سے جاری کردہ فتویٰ اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ انہوں نے طالبان کی حکومت اور پالیسیوں کو ظلم و جبر قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف جدوجہد کو شرعی لحاظ سے فرض قرار دیا ہے۔ فتوے میں طالبان پر شہریوں کے حقوق کی پامالی اور اخلاقی و مذہبی عدم صلاحیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ مذہبی فتویٰ طالبان کے اس بنیادی موقف کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے جس کے تحت وہ اپنی حکومت کے لیے شرعی جواز پیش کرتے آئے ہیں۔
اس تمام تر سیاسی و عسکری کھینچ تان کا سب سے حساس اور المناک پہلو کمسن افغان بچوں کی صورتحال ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق 10 سال تک کے بچوں کو تعلیمی ماحول سے دور کر کے عسکری مقاصد اور مخصوص نظریاتی سانچوں میں ڈھالا جا رہا ہے۔ کمسن بچوں کو عسکری و نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بچوں کے حقوق کی شدید خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ روم اسٹیٹیوٹ کے تحت بین الاقوامی قوانین کے زمرے میں سنگین نا انصافی شمار ہوتا ہے۔ بچوں کو تعلیم اور پرامن بقائے باہمی کے بجائے تشدد کے ماحول کی طرف راغب کرنا افغانستان کے مستقبل کی تعمیرِ نو کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔
مجموعی طور پر بدخشاں سے نیمروز تک پھیلتی مزاحمت، مذہبی و فکری سطح پر اٹھنے والے سوالات اور بچوں کے عسکری استعمال سے پیدا ہونے والے خدشات اس بات کے تقاضا کرتے ہیں کہ طالبان اپنی جابرانہ پالیسیوں اور یکطرفہ حکمرانی کے انداز پر بنیادی نظرِ ثانی کریں۔ محض طاقت کے ذریعے معاملات کو کنٹرول کرنے کی پالیسی پائیدار ثابت نہیں ہو سکتی۔ اگر سیاسی شمولیت، حقوق کی پاسداری اور عوامی شکایات کی ازالے کی حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو افغانستان ایک اور پیچیدہ داخلی تنازع کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جبر جتنا سخت ہو، مزاحمت اتنی ہی گہری جڑیں پکڑتی ہے۔ افغانستان کے موجودہ حالات شاید اسی اصول کی ایک اور مثال بن رہے ہیں۔