پاکستان نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں سے متعلق رپورٹس کو یک طرفہ اور مسخ شدہ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ کابل میں قائم پاکستانی سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ یوناما کی رپورٹ حقائق سے بعید ہے اور اس میں افغان طالبان حکومت کے بیانیے کی بلا تحقیق پاسداری کی گئی ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق افغان طالبان حکومت کی سرپرستی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ طالبان انتظامیہ ان گروہوں کو پناہ گاہیں، مالی معاونت، بھرتی اور سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کی مکمل سہولت فراہم کر رہی ہے۔ ان سہولیات کے باعث خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دراندازی میں 900 سے زائد پاکستانی شہری و سیکیورٹی اہلکار شہید اور 1500 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
افغان سرزمین سے مسلسل دہشت گردانہ حملوں، بالخصوص مئی اور جون 2026 میں پشاور، شمالی وزیرستان اور بنوں میں ہونے والے واقعات کے جواب میں پاکستان نے آپریشن غضب للحق کے تحت محدود اور ہدف شدہ کارروائیاں کیں۔ پاکستان نے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون اور دفاعِ خود اختیاری کے تحت اقدامات کیے۔ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی ان کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کمانڈروں علیم خان خوشالی اور اختر محمد جنیکھیل کے ٹھکانوں اور جماعت الاحرار کی پناہ گاہوں کو تباہ کر کے 50 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
پاکستان نے 27 جون 2026 کے کراچی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تحقیقات کے مطابق چار میں سے تین حملہ آور افغان شہری تھے اور حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی، جس میں تین پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔ پاکستان نے تمام فوجی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین، تناسب اور عدمِ شمولیتِ شہری کے اصولوں کے مطابق قرار دیا ہے، جہاں صرف تصدیق شدہ دہشت گرد مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کو بارہا سکیورٹی خدشات اور دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے سے آگاہ کیا گیا، تاہم ان کی جانب سے کوئی مثبت عمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستان نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار عالمی رکن کا کردار ادا کرتے ہوئے دہشت گردوں کی سرپرستی بند کریں، جبکہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔