ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ایک وائرل ویڈیو پر سوالات اٹھ گئے ہیں، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ویڈیو میں ایڈیٹنگ کے ذریعے ایسا تاثر دیا گیا کہ ایرانی صدر نے ایک ہندو مذہبی پیشوا کے پاؤں چھوئے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ وائرل ویڈیو کے اصل مناظر اس تاثر سے مختلف ہیں جو ایڈیٹ شدہ ویڈیو کے ذریعے پیش کیا گیا۔
دعویٰ کے مطابق اصل ویڈیو میں صدر مسعود پزشکیان کے ہاتھ سے ایک قلم گر گیا تھا۔ وہ اسے اٹھانے کے لیے نیچے جھکے، جبکہ ہندو مذہبی پیشوا بھی قلم اٹھانے کے لیے جھکے۔
The Iranian President didn't touch anyone's feet or sought a Pandit's blessing. He simply picked up something that fell on the ground. But the reality is edited. May be a cheap social media stunt. May be a deliberate attempt to show how deeply connected the two nations are.… pic.twitter.com/PI68Fwkh4S
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) September 13, 2026
پوسٹ میں کہا گیا کہ ایرانی صدر نے نہ کسی کے پاؤں چھوئے اور نہ ہی کسی پنڈت سے آشیرواد طلب کیا۔ ان کے نیچے جھکنے کی وجہ زمین پر گری ہوئی چیز اٹھانا تھی۔
ویڈیو کے حوالے سے سامنے آنے والے دعوے میں بھارتی میڈیا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایڈیٹنگ کے ذریعے واقعے کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا، جس سے ایرانی صدر کے چرن سپرش کرنے کا تاثر پیدا ہوا۔
تحقیقات نے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسے ایران اور بھارت کے درمیان تعلقات کی قربت ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ویڈیو کی ایڈیٹنگ سے متعلق دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق اس وقت اس خبر میں شامل نہیں کی جا رہی۔ اصل اور ایڈیٹ شدہ ویڈیو کے مکمل تقابلی جائزے سے ہی اس حوالے سے حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔