یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے بحیرہ احمر کے تزویراتی جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ میون، جسے پیریم بھی کہا جاتا ہے، باب المندب آبنائے کے درمیان واقع ہے اور بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والے اہم بحری راستے پر واقع ہے۔
مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق حوثی جنگجو سرکاری فورسز کے انخلا کے بعد کشتیوں کے ذریعے جزیرے تک پہنچے۔ بعد ازاں جزیرے پر حوثی جنگجوؤں کی تعیناتی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
باب المندب پر حوثیوں کی گرفت
انصار اللہ اس سے پہلے بھی باب المندب کے علاقے میں اپنی پیش قدمی اور کنٹرول مضبوط کرنے کا دعویٰ کر چکی ہے۔ تازہ پیش رفت کے بعد حوثیوں کو اس اہم بحری گزرگاہ کے قریب ایک اہم تزویراتی مقام حاصل ہو گیا ہے۔
باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم راستہ ہے۔ اس کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے درمیان بحری تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ جزیرہ میون آبنائے کے نسبتاً تنگ حصے میں واقع ہے اور اس کی جغرافیائی پوزیشن اسے خاص اہمیت دیتی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق حوثیوں نے حالیہ کارروائیوں کے دوران سعودی حمایت یافتہ فورسز کو کئی علاقوں سے پیچھے دھکیلنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان نے 5 ہزار 400 مربع کلومیٹر کے علاقے پر پیش قدمی کا دعویٰ کیا۔ تاہم باب المندب پر مکمل کنٹرول کے حوالے سے حوثی حکومت کی جانب سے الگ باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔
موخا کے بعد میون پر پیش قدمی
میون پر پیش قدمی سے ایک روز قبل حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس پیش رفت نے یمن کے مغربی ساحل پر حوثیوں کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے موخا کے قریب حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں۔ تاہم حوثیوں کی پیش قدمی جاری رہی اور وہ باب المندب کے قریب اہم مقامات تک پہنچ گئے۔
انصار اللہ نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیر استعمال امریکی ساختہ بکتر بند گاڑیوں اور دیگر فوجی سازوسامان پر قبضے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
عالمی تجارت اور تیل
میون جزیرے پر حوثیوں کی موجودگی سے باب المندب کی سکیورٹی پر عالمی توجہ بڑھ گئی ہے۔ یہ آبنائے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق باب المندب میں بڑھتی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی شدید کشیدگی جاری ہے۔ دونوں اہم بحری راستوں میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد سعودی عرب کے لیے بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی مزید حساس معاملہ بن گئی ہے۔ اسی دوران سعودی عرب نے ایک اہم تیل پائپ لائن کو بھی بند کیا ہے، جس کے بارے میں حکام نے ڈرون حملے کے بعد حفاظتی اقدام قرار دیا۔
لڑائی شدت اختیار کر گئی
میون پر حوثیوں کا قبضہ یمن میں کئی سال کی نسبتاً کم شدت والی صورتحال کے بعد لڑائی میں اضافے کے دوران سامنے آیا ہے۔
حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ہجرت سے متعلق ایجنسی کے مطابق صرف حالیہ دنوں میں 46 ہزار سے زیادہ افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تازہ پیش رفت نے یمن کی جنگ کو ایک بار پھر علاقائی اور عالمی طاقتوں کے لیے اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔ خصوصاً باب المندب جیسے اہم بحری راستے پر کسی ایک فریق کی مضبوط موجودگی سے خطے کی سکیورٹی اور عالمی تجارت پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔