"> حوثیوں کا میون جزیرے پر قبضہ، باب المندب پر گرفت مضبوط
ریاض ایئرپورٹ پر حملوں میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سعودی اتحاد نے حوثیوں کو بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا، جبکہ او آئی سی نے حملوں کی مذمت کی۔

October 9, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی کی ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

October 9, 2026

خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ کے دوران آٹے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ سرکاری گندم کے ذخائر کے دعوؤں کے باوجود عوام مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔

October 9, 2026

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے طویل اقتدار کے باوجود چارسدہ کے سرکاری ہسپتال میں طبی سہولیات، مشینری اور علاج کی دستیابی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

October 9, 2026

واٹس ایپ گروپس کی لڑائیاں اور ایک دوسرے کو ایکسپوز کرنے کی دھمکیاں ثابت کرتی ہیں کہ جدوجہد اب بانی کی رہائی یا عوامی مسائل کی نہیں، بلکہ محض اقتدار کے بٹوارے اور ذاتی انا کی رہ گئی ہے۔

October 9, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد سعودی عرب کا دفاع اور خطے میں استحکام یقینی بنانا ہے۔

October 9, 2026

حوثیوں کا میون جزیرے پر قبضہ، باب المندب پر گرفت مضبوط ہونے کا دعویٰ

حوثیوں نے بحیرہ احمر کے تزویراتی میون جزیرے پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد باب المندب کی سکیورٹی اور عالمی بحری تجارت پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
میون جزیرے پر حوثیوں کا قبضہ

حوثیوں نے بحیرہ احمر کے تزویراتی میون جزیرے پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے باب المندب پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہونے کی اطلاعات ہیں۔

September 13, 2026

یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے بحیرہ احمر کے تزویراتی جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ میون، جسے پیریم بھی کہا جاتا ہے، باب المندب آبنائے کے درمیان واقع ہے اور بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والے اہم بحری راستے پر واقع ہے۔

مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق حوثی جنگجو سرکاری فورسز کے انخلا کے بعد کشتیوں کے ذریعے جزیرے تک پہنچے۔ بعد ازاں جزیرے پر حوثی جنگجوؤں کی تعیناتی کی اطلاعات سامنے آئیں۔

باب المندب پر حوثیوں کی گرفت

انصار اللہ اس سے پہلے بھی باب المندب کے علاقے میں اپنی پیش قدمی اور کنٹرول مضبوط کرنے کا دعویٰ کر چکی ہے۔ تازہ پیش رفت کے بعد حوثیوں کو اس اہم بحری گزرگاہ کے قریب ایک اہم تزویراتی مقام حاصل ہو گیا ہے۔

باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم راستہ ہے۔ اس کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے درمیان بحری تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ جزیرہ میون آبنائے کے نسبتاً تنگ حصے میں واقع ہے اور اس کی جغرافیائی پوزیشن اسے خاص اہمیت دیتی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق حوثیوں نے حالیہ کارروائیوں کے دوران سعودی حمایت یافتہ فورسز کو کئی علاقوں سے پیچھے دھکیلنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان نے 5 ہزار 400 مربع کلومیٹر کے علاقے پر پیش قدمی کا دعویٰ کیا۔ تاہم باب المندب پر مکمل کنٹرول کے حوالے سے حوثی حکومت کی جانب سے الگ باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔

موخا کے بعد میون پر پیش قدمی

میون پر پیش قدمی سے ایک روز قبل حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر موخا پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس پیش رفت نے یمن کے مغربی ساحل پر حوثیوں کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نے موخا کے قریب حوثی ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں۔ تاہم حوثیوں کی پیش قدمی جاری رہی اور وہ باب المندب کے قریب اہم مقامات تک پہنچ گئے۔

انصار اللہ نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیر استعمال امریکی ساختہ بکتر بند گاڑیوں اور دیگر فوجی سازوسامان پر قبضے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

عالمی تجارت اور تیل

میون جزیرے پر حوثیوں کی موجودگی سے باب المندب کی سکیورٹی پر عالمی توجہ بڑھ گئی ہے۔ یہ آبنائے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق باب المندب میں بڑھتی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی شدید کشیدگی جاری ہے۔ دونوں اہم بحری راستوں میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد سعودی عرب کے لیے بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی مزید حساس معاملہ بن گئی ہے۔ اسی دوران سعودی عرب نے ایک اہم تیل پائپ لائن کو بھی بند کیا ہے، جس کے بارے میں حکام نے ڈرون حملے کے بعد حفاظتی اقدام قرار دیا۔

لڑائی شدت اختیار کر گئی

میون پر حوثیوں کا قبضہ یمن میں کئی سال کی نسبتاً کم شدت والی صورتحال کے بعد لڑائی میں اضافے کے دوران سامنے آیا ہے۔

حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ہجرت سے متعلق ایجنسی کے مطابق صرف حالیہ دنوں میں 46 ہزار سے زیادہ افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

تازہ پیش رفت نے یمن کی جنگ کو ایک بار پھر علاقائی اور عالمی طاقتوں کے لیے اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔ خصوصاً باب المندب جیسے اہم بحری راستے پر کسی ایک فریق کی مضبوط موجودگی سے خطے کی سکیورٹی اور عالمی تجارت پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

ریاض ایئرپورٹ پر حملوں میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سعودی اتحاد نے حوثیوں کو بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا، جبکہ او آئی سی نے حملوں کی مذمت کی۔

October 9, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف الزیانی کی ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

October 9, 2026

خیبرپختونخوا میں لانگ مارچ کے دوران آٹے کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ سرکاری گندم کے ذخائر کے دعوؤں کے باوجود عوام مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔

October 9, 2026

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے طویل اقتدار کے باوجود چارسدہ کے سرکاری ہسپتال میں طبی سہولیات، مشینری اور علاج کی دستیابی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

October 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *