طالبان کے پراپیگنڈا پلیٹ فارم المرصاد نے ایک بار پھر پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کرتے ہوئے بے بنیاد دعوے کیے ہیں، جس کا مقصد افغانستان میں طالبان حکومت کے دور میں محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق بین الاقوامی شواہد سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ المرصاد کوئی آزاد میڈیا ادارہ نہیں بلکہ طالبان کا ایک مخصوص پراپیگنڈا بازو ہے، جس کا واحد مقصد صحافت کے نام پر حقائق کو مسخ کرنا ہے۔ طالبان بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان پر الزامات تراشی کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور امریکی ادارے سگار کی مسلسل رپورٹیں افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں کی نشاندہی کرتی رہی ہیں۔
طالبان ایک طرف تو پورے افغانستان پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر دوسری طرف وہیں سرگرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ اور داعش خراسان سمیت 20 سے زائد علاقائی و عالمی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ دونوں دعوے ایک ساتھ کبھی درست نہیں ہو سکتے اور طالبان اس تضاد کی ذمہ داری سے ہرگز بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
اگر طالبان نے واقعی اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر دیا ہوتا، تو عالمی برادری کے جائزوں میں افغانستان کو اب بھی شدت پسندوں کی بھرتی، تربیت اور سرحد پار حملوں کا مرکز قرار نہ دیا جاتا۔ پاکستان کے خلاف الزامات دراصل اپنی ناکامیوں اور دہشت گردوں کی سرپرستی سے توجہ ہٹانے کی ایک روایتی طالبانی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان خطے میں دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ المِرصاد یا طالبان کی کوئی بھی پراپیگنڈا مہم ان بین الاقوامی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتی جنہیں عالمی ادارہ برائے سکیورٹی اور اقوام متحدہ مسلسل اپنی رپورٹس میں طشت از بام کرتے رہے ہیں۔
دیکھیے: طالبان کا اسماعیلی عبادت گاہوں کو مساجد میں تبدیل کرنے کا حکم