افغانستان: صوبہ بدخشاں کے ضلع یافتل پایان میں طالبان کی مبینہ بدسلوکی کے خلاف احتجاج کرنے والے شہریوں پر طالبان نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی اور بے چینی پھیل گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق احتجاج کا آغاز اس وقت ہوا جب یافتل بازار میں طالبان کے پختون اہلکاروں نے ایک مقامی خاتون کو ہراساں کیا، اس کی تلاشی لی اور بدسلوکی کی۔ اس واقعے کے فوراً بعد علاقہ مکین شدید اشتعال میں آ گئے اور طالبان کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ضلعی مرکز میں جمع ہو گئے۔
طالبان فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر براہِ راست فائرنگ کر دی۔ واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں مقامی افراد کو زخمیوں کو منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ طالبان اہلکاروں کا رویہ دن بہ دن جابرانہ ہوتا جا رہا ہے، جس کے خلاف عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں سخت گیر پالیسیوں کے باعث مسلح مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ طالبان کے مختلف دھڑوں میں آپسی اختلافات کی خبریں بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق عوامی بے چینی، فائرنگ کے پرتشدد واقعات اور طالبان کی اندرونی کشمکش سے ملک بھر میں سیکیورٹی کی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جس نے موجودہ حکمرانوں کے لیے چیلنجز میں اضافہ کر دیا ہے۔