پاکستان کے لیے ایک اور عظیم اور تاریخی اعزاز، جہاں جنوبی وزیرستان جیسے دشوار گزار علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان فائٹر احسان محسود نے تھائی لینڈ میں منعقدہ بین الاقوامی تائیکوانڈو چیمپیئن شپ میں سنسنی خیز مقابلوں کے بعد گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا ہے۔
وزیرستان جیسے پسماندہ علاقے سے نبردازمائی کرتے ہوئے اس ہونہار نوجوان کا عالمی سطح پر یہ شاندار کامیابی حاصل کرنا نہ صرف کھیلوں کی دنیا کے لیے ایک عظیم پیش رفت ہے، بلکہ اسے قبائلی اضلاع اور بالخصوص وزیرستان کی ترقی، معیاری تعلیم اور امن کی جانب ایک نہایت اہم اور مثبت پیش قدمی قرار دیا جا رہا ہے۔
احسان محسود نے ایونٹ کے پہلے ہی مرحلے میں قازقستان کے نامور کھلاڑی کو پچھاڑ کر فاتحانہ آغاز کیا۔ سیمی فائنل کے معرکے میں انہوں نے روایتی حریف بھارت کے فائٹر کو چت کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنائی۔ فائنل کے سنسنی خیز مقابلے میں انہوں نے سری لنکن حریف کو شکست فاش دے کر طلائی تمغے پر قبضہ جمایا اور عالمی افق پر سبز ہلالی پرچم لہرایا۔
اس عظیم فتح کے بعد احسان محسود کا کہنا تھا کہ یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، والدین کی دعاؤں اور پوری قوم کی خلوص بھری محبتوں کا ثمر ہے، لہذا وہ یہ تمغہ اپنے ملک اور بالخصوص اپنے علاقے کے غیور اور باہمت عوام کے نام منسوب کرتے ہیں۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ احسان محسود کی یہ پیش رفت اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اگر وزیرستان اور دیگر قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو تعلیم، کھیل اور مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ منفی پراپیگنڈے اور بدامنی کا خاتمہ کر کے امن و ترقی کی نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔
دیکھیے: شمالی وزیرستان: فتنہ الخوارج کا مسجد پر کواڈ کاپٹر حملہ، ایک شہری جاں بحق