افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف سرگرم مخالفین کی مسلح مزاحمت اب انتہائی خونریز اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں طالبان رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنانے اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبہ بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی فورسز نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران اہم طالبان کمانڈر عبداللہ طاہری کو قتل کر دیا ہے۔ یہ واقعہ خطے میں طالبان کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی اور عسکری غصے کی عکاسی کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حالات اب محض چھوٹی موٹی جڑپوں سے نکل کر طالبان کی اہم شخصیات کو اعلیٰ ترین سطح پر نشانہ بنانے تک پہنچ چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمتی گروہوں کا انٹیلی جنس نیٹ ورک اور عسکری تحرک نچلی سے لے کر اعلیٰ سطح تک مضبوط ہو رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں مزاحمتی جنگجوؤں نے طالبان کے آرمی چیف کے گھر کو بھی ایک شدید حملے کا نشانہ بنایا تھا، جس میں متعدد طالبان اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ طالبان کی عسکری قیادت کو ان کے محفوظ ٹھکانوں پر نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزاحمت کار اب گوریلا کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ اور سابق آرمی چیف جنرل یاسین ضیا اور جنرل سمیع سادات جیسے عسکری رہنماؤں کے حالیہ بیانات نے بھی اس مزاحمت میں نئ روح پھونک دی ہے۔ یاسین ضیا نے حال ہی میں واضح کیا ہے کہ طالبان کو صرف اقتدار سے ہٹانا کافی نہیں بلکہ ان کے بعد ایک شفاف، جمہوری اور عوام کے سامنے جوابدہ حکومت بنانا ہوگی۔
اسی طرح جنرل سمیع سادات کی جانب سے بھی طالبان کے خلاف باقاعدہ عسکری تحرک کے اعلانات کے بعد شمالی صوبوں بالخصوص بدخشاں، پنجشیر اور بغلان میں طالبان فورسز پر حملوں کی تعداد اور ان کی شدت میں یکدم اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
افغان امور کے ماہرین کے مطابق طالبان آرمی چیف کی رہائش گاہ پر حملے، جگہ جگہ طالبان اہلکاروں کی ہلاکتوں اور اب بدخشاں میں کمانڈر عبداللہ طاہری کے قتل نے طالبان کی سکیورٹی ریڈار اور ان کے انٹیلی جنس نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان مخالف اتحاد مزید منظم ہو رہا ہے اور ان کی جانب سے اعلیٰ طالبان کمانڈروں کو ہدف بنانا اس امر کا واضح پیغام ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان میں اقتدار کی جنگ مزید شدّت اختیار کر سکتی ہے۔
دیکھیے: القاعدہ اور فتنۃ الخوارج کو افغان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے: اقوام متحدہ