تیرہ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد خوارج کی جانب سے دینی جذبات کو بھڑکانے اور ریاستی کارروائیوں کو بدنام کرنے کی منظم پاوپیگنڈا مہم ناکام بنا دی گئی ہے۔

August 3, 2026

یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات نے قندھار سے طالبان کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ سے سیاسی حمایت کی اپیل کر دی۔

August 3, 2026

بدخشاں میں اہم طالبان کمانڈر عبداللہ طاہری کے قتل کے بعد افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت انتہائی شدت اختیار کر گئی ہے۔

August 3, 2026

افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ جنرل یاسین ضیا نے طالبان کے خلاف جدوجہد کا اعادہ کرتے ہوئے ملک میں شفاف انتخابات اور عوام کے سامنے جوابدہ حکومت کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔

August 3, 2026

جنوبی وزیرستان کے شہر وانا کی سپر مارکیٹ میں بم دھماکے کے نتیجے میں معروف امن پسند مذہبی رہنما اور سابق کمانڈر مفتی جان امیر شہید ہو گئے۔

August 3, 2026

وزیرستان کے احسان محسود نے تھائی لینڈ میں منعقدہ عالمی تائیکوانڈو چیمپیئن شپ میں بھارت اور سری لنکا کے حریفوں کو شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔

August 3, 2026

بدخشاں میں طالبان کمانڈر عبداللہ طاہری قتل؛ مزاحمت نئے مرحلے میں داخل

بدخشاں میں اہم طالبان کمانڈر عبداللہ طاہری کے قتل کے بعد افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت انتہائی شدت اختیار کر گئی ہے۔
طالبان کے لیے ایک اور بڑا دھچکا؟ بدخشاں میں اہم کمانڈر عبداللہ طاہری حملے میں ہلاک

بدخشاں میں طالبان کمانڈر عبداللہ طاہری کا قتل؛ طالبان آرمی چیف کے گھر پر حملے اور جنرل یاسین ضیا و سمیع سادات کے بیانات کے بعد افغان مزاحمت خونریز مرحلے میں داخل۔

August 3, 2026

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف سرگرم مخالفین کی مسلح مزاحمت اب انتہائی خونریز اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں طالبان رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنانے اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبہ بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمتی فورسز نے ایک کامیاب کارروائی کے دوران اہم طالبان کمانڈر عبداللہ طاہری کو قتل کر دیا ہے۔ یہ واقعہ خطے میں طالبان کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی اور عسکری غصے کی عکاسی کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حالات اب محض چھوٹی موٹی جڑپوں سے نکل کر طالبان کی اہم شخصیات کو اعلیٰ ترین سطح پر نشانہ بنانے تک پہنچ چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمتی گروہوں کا انٹیلی جنس نیٹ ورک اور عسکری تحرک نچلی سے لے کر اعلیٰ سطح تک مضبوط ہو رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں مزاحمتی جنگجوؤں نے طالبان کے آرمی چیف کے گھر کو بھی ایک شدید حملے کا نشانہ بنایا تھا، جس میں متعدد طالبان اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ طالبان کی عسکری قیادت کو ان کے محفوظ ٹھکانوں پر نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزاحمت کار اب گوریلا کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ اور سابق آرمی چیف جنرل یاسین ضیا اور جنرل سمیع سادات جیسے عسکری رہنماؤں کے حالیہ بیانات نے بھی اس مزاحمت میں نئ روح پھونک دی ہے۔ یاسین ضیا نے حال ہی میں واضح کیا ہے کہ طالبان کو صرف اقتدار سے ہٹانا کافی نہیں بلکہ ان کے بعد ایک شفاف، جمہوری اور عوام کے سامنے جوابدہ حکومت بنانا ہوگی۔

اسی طرح جنرل سمیع سادات کی جانب سے بھی طالبان کے خلاف باقاعدہ عسکری تحرک کے اعلانات کے بعد شمالی صوبوں بالخصوص بدخشاں، پنجشیر اور بغلان میں طالبان فورسز پر حملوں کی تعداد اور ان کی شدت میں یکدم اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

افغان امور کے ماہرین کے مطابق طالبان آرمی چیف کی رہائش گاہ پر حملے، جگہ جگہ طالبان اہلکاروں کی ہلاکتوں اور اب بدخشاں میں کمانڈر عبداللہ طاہری کے قتل نے طالبان کی سکیورٹی ریڈار اور ان کے انٹیلی جنس نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان مخالف اتحاد مزید منظم ہو رہا ہے اور ان کی جانب سے اعلیٰ طالبان کمانڈروں کو ہدف بنانا اس امر کا واضح پیغام ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان میں اقتدار کی جنگ مزید شدّت اختیار کر سکتی ہے۔

دیکھیے: القاعدہ اور فتنۃ الخوارج کو افغان رجیم کی پشت پناہی حاصل ہے: اقوام متحدہ

متعلقہ مضامین

تیرہ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد خوارج کی جانب سے دینی جذبات کو بھڑکانے اور ریاستی کارروائیوں کو بدنام کرنے کی منظم پاوپیگنڈا مہم ناکام بنا دی گئی ہے۔

August 3, 2026

یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات نے قندھار سے طالبان کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ اور برطانیہ سے سیاسی حمایت کی اپیل کر دی۔

August 3, 2026

افغانستان فریڈم فرنٹ کے سربراہ جنرل یاسین ضیا نے طالبان کے خلاف جدوجہد کا اعادہ کرتے ہوئے ملک میں شفاف انتخابات اور عوام کے سامنے جوابدہ حکومت کے قیام کا مطالبہ کر دیا۔

August 3, 2026

جنوبی وزیرستان کے شہر وانا کی سپر مارکیٹ میں بم دھماکے کے نتیجے میں معروف امن پسند مذہبی رہنما اور سابق کمانڈر مفتی جان امیر شہید ہو گئے۔

August 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *