افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا سلسلہ دن بہ دن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بدخشاں، پنجشیر اور دیگر شمالی اضلاع کے بعد اب صوبہ فاریاب میں بھی گل محمد پہلوان کی قیادت میں جبہۂ رہائے بخش (لیبریشن فرنٹ) نامی نئے مسلح گروہ کے قیام کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جو عنقریب اپنی سرگرمیوں کا باضابطہ اعلان کرے گا۔
ذرائع کے مطابق افغان آزادی پسند اور طالبان مخالف گروہ اب ملک کے مختلف حصوں میں منظم ہو رہے ہیں۔ پنجشیر اور بدخشاں کی پہاڑیوں میں جاری مزاحمتی تحریکوں کے بعد فاریاب میں نئی تنظیم کا ابھار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان حکومت کے سکیورٹی چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق فاریاب کے ضلع بلچراغ میں پیر کے روز طالبان فورسز پر ہونے والا خونریز حملہ اسی جبہۂ رہائی بخش سے وابستہ جنگجوؤں نے کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ تنظیم آنے والے چند دنوں میں ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کر کے اپنی عسکری مہمات کے آغاز کا اعلان کرے گی۔
اس کے علاوہ ذرائع نے ضلع غورماچ میں بھی طالبان کے خلاف ایک اور مسلح حملے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس کارروائی کی مکمل تفصیلات اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بدخشاں اور پنجشیر سے شروع ہونے والی یہ سکیورٹی کشیدگی اب دیگر صوبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ طالبان حکام نے فی الحال فاریاب میں پیش آنے والے ان واقعات یا نئے مسلح محاذ کے قیام سے متعلق کوئی رسمی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
دیکھیے: طالبان مخالف مزاحمت میں شدت؛ جنرل یاسین ضیا نے نئے افغانستان کا خاکہ پیش کر دیا