افغانستان میں طالبان کی انتقامی کارروائیاں تیز، گزشتہ تین ماہ کے دوران 184 سے زائد سابق افغان فوجیوں کو قتل کر دیا گیا۔

August 4, 2026

لندن میں بھارتی سفارتکار شری رام پرکاش کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرے میں باضابطہ شرکت نے اس کی بھارتی سرپرستی کا پول کھول دیا ہے۔

August 4, 2026

چودہ اگست آزادی کے جشن کے ساتھ خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ قیامِ پاکستان کے 79 سال بعد یہ تجزیاتی جائزہ کہ ہم نے کن شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں اور کون سے خواب ابھی تشنہِ تعبیر ہیں۔

August 4, 2026

باجوڑ میں 11 جولائی کے آپریشن میں ہلاک دوسرا ٹی ٹی پی دہشت گرد افغان شہری احمد مخلص نکلا۔

August 4, 2026

کبل میں افغان خودکش بمبار کے حملے کے بعد پی ٹی ایم نے دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کے خلاف گمراہ کن بیانیے کا سہارا لیا ہے۔

August 4, 2026

تیراہ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد فتنہ الخوارج نے عوامی جذبات مجروح کرنے اور پراپیگنڈا پھیلانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

August 4, 2026

پنجشیر اور بدخشاں کے بعد اب فاریاب: طالبان مخالف نیا مسلح گروہ سامنے آ گیا

پنجشیر اور بدخشاں کے بعد فاریاب میں بھی جبہۂ رہائے بخش کے قیام سے طالبان مخالف مزاحمت میں شدت آ گئی۔
پنجشیر اور بدخشاں کے بعد اب فاریاب: طالبان کے خلاف نیا مسلح محاذ سامنے آ گیا

پنجشیر اور بدخشاں کے بعد فاریاب میں طالبان مخالف نیا مسلح گروہ جبہۂ رہائے بخش سامنے آ گیا ہے، جس نے کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

August 4, 2026

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا سلسلہ دن بہ دن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بدخشاں، پنجشیر اور دیگر شمالی اضلاع کے بعد اب صوبہ فاریاب میں بھی گل محمد پہلوان کی قیادت میں جبہۂ رہائے بخش (لیبریشن فرنٹ) نامی نئے مسلح گروہ کے قیام کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جو عنقریب اپنی سرگرمیوں کا باضابطہ اعلان کرے گا۔

ذرائع کے مطابق افغان آزادی پسند اور طالبان مخالف گروہ اب ملک کے مختلف حصوں میں منظم ہو رہے ہیں۔ پنجشیر اور بدخشاں کی پہاڑیوں میں جاری مزاحمتی تحریکوں کے بعد فاریاب میں نئی تنظیم کا ابھار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان حکومت کے سکیورٹی چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق فاریاب کے ضلع بلچراغ میں پیر کے روز طالبان فورسز پر ہونے والا خونریز حملہ اسی جبہۂ رہائی بخش سے وابستہ جنگجوؤں نے کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ تنظیم آنے والے چند دنوں میں ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کر کے اپنی عسکری مہمات کے آغاز کا اعلان کرے گی۔

اس کے علاوہ ذرائع نے ضلع غورماچ میں بھی طالبان کے خلاف ایک اور مسلح حملے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس کارروائی کی مکمل تفصیلات اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بدخشاں اور پنجشیر سے شروع ہونے والی یہ سکیورٹی کشیدگی اب دیگر صوبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ طالبان حکام نے فی الحال فاریاب میں پیش آنے والے ان واقعات یا نئے مسلح محاذ کے قیام سے متعلق کوئی رسمی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

دیکھیے: طالبان مخالف مزاحمت میں شدت؛ جنرل یاسین ضیا نے نئے افغانستان کا خاکہ پیش کر دیا

متعلقہ مضامین

افغانستان میں طالبان کی انتقامی کارروائیاں تیز، گزشتہ تین ماہ کے دوران 184 سے زائد سابق افغان فوجیوں کو قتل کر دیا گیا۔

August 4, 2026

لندن میں بھارتی سفارتکار شری رام پرکاش کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرے میں باضابطہ شرکت نے اس کی بھارتی سرپرستی کا پول کھول دیا ہے۔

August 4, 2026

چودہ اگست آزادی کے جشن کے ساتھ خود احتسابی کا دن بھی ہے۔ قیامِ پاکستان کے 79 سال بعد یہ تجزیاتی جائزہ کہ ہم نے کن شعبوں میں کامیابیاں حاصل کیں اور کون سے خواب ابھی تشنہِ تعبیر ہیں۔

August 4, 2026

باجوڑ میں 11 جولائی کے آپریشن میں ہلاک دوسرا ٹی ٹی پی دہشت گرد افغان شہری احمد مخلص نکلا۔

August 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *