افغانستان میں طالبان کی سخت گیر حکمرانی، وسیع پیمانے پر جبر پر مبنی پالیسیوں کے خلاف عوامی سطح پر شدید غصہ اور مزاحمت سامنے آ رہی ہے۔
افغان معاشرے پر عائد سخت پابندیوں نے شہریوں کے لیے معمول کی زندگی گزارنا انتہائی دشوار کر دیا ہے، جبکہ خواتین کو ایک منظم پالیسی کے تحت تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے مکمل طور پر بے دخل کر دیا گیا ہے۔
بنیادی انسانی آزادیوں سے محرومی اور طالبان کے اس آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف پنپنے والا عوامی غصہ اب ملک میں مسلح مزاحمت میں اضافے کا سب سے بڑا محرک بنتا جا رہا ہے۔
ماضی میں طالبان کے خلاف یہ مزاحمتی سرگرمیاں چند مخصوص اور محدود علاقوں تک سمٹی ہوئی تھیں، تاہم اب یہ لہر افغانستان کے مختلف حصوں تک تیزی سے پھیل رہی ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق طالبان مخالف مسلح مزاحمتی گروہوں میں شمولیت اختیار کرنے والے عام افغان شہریوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شہریوں کی مزاحمتی تنظیموں میں یہ بڑھتی ہوئی شمولیت طالبان کی حکومت اور ان کے سخت گیر نظریے کے خلاف ابھرتی ہوئی مضبوط عوامی مخالفت کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔
دیکھیے: کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملہ، افغان فریڈم فرنٹ نے ذمہ داری قبول کرلی