ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل 5 کی مانند ایک مضبوط دفاعی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔
انقرہ میں اپنے ایک بیان میں ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یہ تین ملکی دفاعی اتحاد کسی مخصوص ملک کے خلاف قائم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کسی بھی اتحادی ملک پر حملے کی صورت میں تمام رکن ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے ایک دوسرے کی مدد کا طریقہ کار اور نوعیت طے کریں گے۔
حاقان فیدان کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ قائم اس دفاعی اتحاد کو مزید وسعت دینے کے خواہش مند ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ مستقبل میں مصر بھی ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس اہم دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے مزید انکشاف کیا کہ نئے دفاعی اتحاد کی دیکھ بھال کے لیے وزارتی سطح کی ایک کمیٹی قائم کی جائے گی، جبکہ اتحاد کا مرکزی جنرل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اس تاریخی دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے پچھلے 2 سال اور 8 ماہ سے مسلسل اور انتھک کوششیں جاری تھیں۔