نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی ہے اور اس کا مقصد کسی کے خلاف اقدام نہیں بلکہ خطے میں امن و خوشحالی کا فروغ ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والا یہ سہ ملکی معاہدہ کئی برسوں کے مذاکرات کا نتیجہ ہے، جو تینوں برادر ممالک کی قیادت اور عوام کے گہرے تعلقات کا عکاس ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی احترام اور پرامن حل پر یقین رکھنے والا کوئی بھی ملک اس میں شامل ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا وفاقی وزرا اور ارکانِ پارلیمنٹ نے مکہ معاہدے کو امتِ مسلمہ کے اتحاد اور دائمی امن کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔
دیکھیے: پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ ایران کیخلاف نہیں ہے، ترک وزارت خارجہ