خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں پر ہونے والے حملوں میں جدید ترین غیر ملکی اسلحے اور ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی تشویشناک صورتِ حال اختیار کر چکا ہے۔ حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی مختلف ویڈیوز اور تصویری شواہد میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو جدید امریکی ساختہ ہتھیار، خصوصاً ایم24 ایس ڈبلیو ایس سنائپر رائفلز اور ملٹری گریڈ ٹیکنالوجی سے لیس دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سنگین معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ماضی قریب کے خطے میں پیش آنے والے واقعات اور ان کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورسز کو فراہم کیا گیا اربوں ڈالر مالیت کا جدید ترین عسکری سامان اور گولہ بارود وہیں رہ گیا۔
اور پھر یہ اسلحہ حکمران جماعت طالبان کے کنٹرول میں چلا گیا۔ تاہم بدقسمتی سے یہ دفاعی ذخائر صرف کابل انتظامیہ کے ہاتھ تک محدود نہیں رہے بلکہ افغانستان میں موجود مختلف عالمی و علاقائی کالعدم گروہوں کی پہنچ میں بھی آ گئے۔
امریکی ساختہ ایم24 سنائپر رائفلز کی ٹی ٹی پی کے پاس موجودگی کوئی اتفاقی پیش آنے والا واقعہ نہیں ہے۔ 2022 کی ابتدا میں جاری ہونے والی ٹی ٹی پی کی ویڈیو اور تحریری مواد میں بھی انہی جدید رائفلز کے شواہد ملے تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ افغان سرحد کے پار سے ان ہتھیاروں کی مسلسل اور منظم منتقلی کا سلسلہ پچھلے چند سالوں سے جا رہی ہے۔ اس ضمن میں بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں، بالخصوص سمال آرمز سروے کی رپورٹس بھی انکشاف کرتی ہیں کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں بالخصوص پاکستان سے ملحقہ سرحد پر اسلحے کی بلیک مارکیٹس کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم ہو چکا ہے، جہاں سے یہ جدید ترین سیمی آٹومیٹک، نائٹ ویژن اور سنائپر ہتھیار پاکستان کے خلاف نبرد آزما گروہوں تک آسانی سے پہنچائے جا رہے ہیں۔
یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود یہ عسکری ذخائر آخر کن راستوں اور کن کی سہولت کاری سے خیبر پختونخوا کے دشوار گزار علاقوں میں متحرک دہشت گردوں تک پہنچ رہے ہیں؟ جب اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے تو معاملہ محض اسلحے کی اسمگلنگ یا چند سرحد پار مجرموں کی سرگرمی کا نہیں رہتا، بلکہ یہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے نیٹ ورک اور اسے حاصل آپریشنل آزادی کا مظہر بن جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی یکے بعد دیگرے آنے والی رپورٹس نے بارہا اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں موجود سب سے بڑا اور فعال دہشت گرد گروہ ہے۔ ان رپورٹوں میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں اور سپورٹ میسر ہے بلکہ طالبان اور القاعدہ کے کچھ عناصر کے ساتھ تعاون کے ماحول میں ٹی ٹی پی کے نئے تربیتی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔
پاکستان ہمیشہ سے عالمی برادری اور افغان حکومت کے سامنے یہ مقدمہ پیش کرتا آیا ہے کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ پاکستان نے کئی بار کابل انتظامیہ کو مستند شواہد فراہم کیے ہیں کہ سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانے ہی پاکستان میں حالیہ خونریزی کے اصل سرچشمے ہیں۔ اگرچہ افغان طالبان ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں، لیکن اقوام متحدہ کے آزادانہ تجزیے اور زمینی شواہد پاکستان کے مؤقف کی مکمل توثیق کرتے ہیں۔
موجودہ صورتِ حال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جدید ترین امریکی اسلحے کا دہشت گردوں کے ہاتھوں میں پہنچنا، سرحدی اضلاع میں اسلحے کی غیر قانونی منتقلی اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کا برقرار بنیادی ڈھانچہ۔ یہ تمام عوامل جداگانہ واقعات نہیں ہیں، بلکہ یہ خطے میں ایک بڑے اور منظم سکیورٹی بحران کی مختلف کڑیاں ہیں۔ جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی بدولت دہشت گرد گروہوں کی حملے کرنے کی صلاحیت اور خطرناکی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس کا بڑا نقصان پاکستان کے سکیورٹی اداروں اور سرحد پار بسنے والے معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
امریکی اور نیٹو دور کا چھوڑا ہوا عسکری سامان اگر اسی طرح دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ چڑھتا رہا اور کابل انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں چراتی رہی، تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہ عالمی امن اور علاقائی استحکام کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن کر ابھرے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری، بالخصوص امریکہ اور اقوام متحدہ، افغانستان میں باقی رہ جانے والے عسکری ترکے کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
اس کے ساتھ ساتھ، کابل انتظامیہ کو بھی یہ باور کرانا ضروری ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیموں کی سرپرستی اور انہیں افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینا بالآخر خود افغانستان کے اپنے مستقبل اور علاقائی روابط کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو گا۔ جب تک افغان سرحد سے سکیورٹی کے تمام سوراخ بند نہیں کیے جاتے اور ٹی ٹی پی کے خلاف بلامتیاز کارروائی نہیں کی جاتی، تب تک خیبر پختونخوا اور پورے خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونا ناممکن ہے۔