افغانستان کے صوبے نورستان کے طالبان گورنر زین العابدین عابد کی جانب سے حالیہ دنوں میں آئی ایس آئی پر عائد کیا گیا الزام کہ وہ افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے اور طالبان مخالف مسلح گروہوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، کوئی نیا یا حیران کن بیان نہیں۔ یہ اس مخصوص طرزِ عمل کی ایک اور کڑی ہے جو طالبان حکومت اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں بارہا دہرا چکی ہے: جب بھی اندرونِ ملک بے چینی، احتجاج یا مسلح مزاحمت سر اٹھاتی ہے، اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے سیدھا پاکستان یا کسی اور بیرونی قوت کا نام لے دیا جاتا ہے۔
اگست 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد سے طالبان حکومت کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک واضح نمونہ سامنے آتا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی، خواتین کے دفاتر اور عوامی مقامات تک رسائی کی سلبی، اور حال ہی میں قندھار میں ریڈیو پر خواتین کی آواز نشر کرنے پر پابندی جیسے اقدامات نے افغان معاشرے کے ایک بڑے حصے کو عملاً زندگی کے ہر شعبے سے باہر دھکیل دیا۔ اسی طرح آزاد میڈیا پر سخت قوانین، تنقید پر کوڑوں اور قید کی سزائیں، اور سیاسی مخالفت کی مکمل ناقابلِ برداشت حیثیت نے وہ ماحول تشکیل دیا جس میں عدم اطمینان کا پروان چڑھنا فطری امر تھا۔
یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں قندھار، ہرات، فاریاب، ننگرہار اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان فریڈم فرنٹ اور افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ جیسے گروہوں کی کارروائیوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ ان کارروائیوں کی قیادت اکثر ایسے افراد کے ہاتھ میں ہے جو سابق افغان آرمی سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ یعنی یہ مزاحمت کسی بیرونی درآمد شدہ منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ خود افغان سرزمین پر پیدا ہونے والا ردعمل ہے۔
الزام تراشی
اس تناظر میں دیکھا جائے تو نورستان کے گورنر کا تازہ بیان کسی تجزیاتی نتیجے پر مبنی نہیں بلکہ اسی پرانے فارمولے کی تکرار ہے جسے طالبان حکام گزشتہ کئی برسوں سے استعمال کرتے آئے ہیں۔ افغان عوام اور بین الاقوامی امور کے ماہرین اس نمونے سے بخوبی آگاہ ہیں: جونہی کسی صوبے میں مزاحمتی حملہ ہو، کوئی احتجاج ابھرے، یا سکیورٹی صورتحال بگڑے، طالبان ترجمان یا مقامی حکام کی جانب سے تحقیق کے بجائے فوری طور پر پاکستان کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ ردعمل اتنا یکساں اور خودکار ہو چکا ہے کہ اب اسے ایک باقاعدہ سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر پہچانا جانے لگا ہے۔ ذمہ داری قبول کرنے یا پالیسیوں پر نظرثانی کے بجائے، ہر بحران کو بیرونی سازش کا نام دے کر عوامی توجہ اصل مسئلے سے ہٹا دی جاتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر طالبان حکومت واقعی مستحکم اور عوامی حمایت یافتہ ہے، تو ملک کے کم از کم پانچ صوبوں میں بیک وقت مسلح مزاحمت کیوں پھیل رہی ہے؟ اور اگر یہ سب کچھ محض کسی سرحد پار ایجنسی کی کارستانی ہے، تو ان مزاحمتی گروہوں میں شامل مقامی افغان جنگجو اور سابق فوجی کمانڈر آخر کس وجہ سے میدان میں اترے؟ یہ حقیقت خود اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ مزاحمت کی جڑیں افغانستان کے اندر، خود طالبان کی اپنی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔
بیانیے کا فائدہ کس کو؟
بیرونی الزام تراشی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ حکومتی حامیوں کو یہ باور کرانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے کہ درپیش چیلنج کوئی اندرونی بحران نہیں بلکہ ایک بیرونی سازش ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ حربہ زیادہ عرصے تک حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔ جب کوئی حکومت اپنی ہی آبادی کی خواتین، صحافی برادری، سیاسی مخالفین اور اقلیتوں کو منظم طور پر دبائے رکھے، تو مزاحمت کسی بیرونی امداد کے بغیر بھی جنم لیتی ہے اور پھیلتی ہے۔
طالبان حکومت کا یہ رویہ ہر بحران پر پاکستان کا نام لینا اب اتنا متوقع اور دہرایا جانے والا عمل بن چکا ہے کہ خود بین الاقوامی مبصرین بھی اسے سنجیدہ تجزیے کے بجائے ایک مخصوص، پہلے سے طے شدہ ردعمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ حقیقی استحکام اسی وقت ممکن ہوگا جب کابل انتظامیہ اپنی پالیسیوں کا از سرِ نو جائزہ لے. خاص طور پر خواتین کے حقوق، آزاد میڈیا اور شہری آزادیوں کے حوالے سے. بجائے اس کے کہ ہر بار الزام تراشی سے وقتی سیاسی سکون حاصل کیا جائے۔