تحریک انصاف نے ایک بار پھر احتجاجی حکمتِ عملی سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ قیادت نے 27 ستمبر کا لانگ مارچ مؤخر کر کے 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت پشاور میں سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شرکا نے اعتراف کیا کہ حالات سازگار نہیں ہیں۔ قیادت عوامی ردعمل اور حکومتی سختی سے خائف تھی۔ اسی خوف کے باعث تاریخ آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
کمیٹی کے اجلاس میں قیادت کے باہمی اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے۔ اتحادی قائدین محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اعتماد میں لینے پر تکرار ہوئی۔ بیرسٹر گوہر اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی فون کرنے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہے۔
اس فیصلے سے پی ٹی آئی کا اندرونی تضاد بھی بے نقاب ہو گیا۔ ایک طرف شوکت یوسفزئی مکمل تیاری کے دعوے کر رہے تھے۔ دوسری طرف قیادت نے پسپائی کا راستہ چن لیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے اس فیصلے پر تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے کہا کہ قیادت کو معلوم تھا کہ عوام نہیں نکلیں گے۔ وفاقی حکومت کے سخت مؤقف کے آگے جماعت نے ایک بار پھر اپنے کارکنوں کو مایوس کر دیا ہے۔
دیکھیے: کیا پی ٹی آئی لانگ مارچ مؤخر کرنے جارہی ہے؟ آج اہم اعلان متوقع