(پی ٹی ایم کی جانب سے 15 اگست 2026 کو کولوراڈو میں ایک قوم، ایک مقصد کے عنوان سے تقریب کے انعقاد کے اعلان نے تحریک کے سیاسی اور جغرافیائی بیانیے کو ایک بار پھر عالمی و قومی سطح پر بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ تحریک خود کو شہری آزادیوں کا علمبردار پیش کرتی ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق اس کا طرزِ عمل اور نعرے نسلی تقسیم اور علیحدگی پسند رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔
تحریک کے اہم نعرے آمو دریا سے اباسین تک کو ماہرین نے خطے کی تاریخ اور جغرافیائی ساخت کے منافی قرار دیا ہے۔ آمو دریا کے پاس شمالی افغانستان میں تاجک، ازبک، ترکمان اور ہزارہ اقوام کی بڑی تعداد آباد ہے۔
اس پورے خطے کو محض ایک قوم کا حصہ قرار دینا ان غیر پشتون آبادیوں کی تاریخی موجودگی کو نظرانداز کرنے کے برابر ہے۔ اسی طرح دریائے سندھ کو نسلی حدود کا نام دینا ریاستی سرحدوں اور خودمختاری کے عالمی اصولوں سے متصادم سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹس میں ڈیورنڈ لائن کو مسلسل مصنوعی سرحد قرار دینے کے بیانیے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بین الاقوامی سرحدوں کے دونوں جانب ایک ہی نسلی یا ثقافتی گروہ کا وجود دنیا بھر میں عام ہے۔ افغانستان کی اپنی سرحدیں بھی تاجکستان، ازبکستان اور ایران سے ملتی ہیں جہاں سرحد کے پار مشترکہ برادریاں موجود ہیں۔ ایسے میں صرف ڈیورنڈ لائن کو ہدف بنانا محض نسلی سحر کے بجائے مخصوص سیاسی ترجیحات کا مظہر نظر آتا ہے۔
علاوہ ازیں، پاکستانی ریاست میں پشتونوں کو مظلوم پیش کرنے کے دعوے کو بھی ملکی تاریخ اور ادارہ جاتی ارتقا کے خلاف بتایا گیا ہے۔ پشتون برادری ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں بشمول صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کے وظائف انجام دے چکی ہے۔
افواج، عدلیہ اور سول سروس کے ساتھ ساتھ کراچی جیسے معاشی مراکزی شہروں کی تجارت، ٹرانسپورٹ اور ریئل اسٹیٹ میں پشتونوں کا متحرک کردار ان کے مکمل قومی و معاشی انضمام کو ظاہر کرتا ہے۔