فاٹا اور خیبر پختونخوا کے اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی کے سکیورٹی اقدامات اور عوامی حقوق کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ عام شہریوں کی مشکلات اور سییورٹی اپریٹس کی کارروائیوں کو الگ نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔ خطے میں لگی سرحدی باڑ، چیک پوسٹیں اور انٹیلی جنس آپریشنز سرحد پار سے عسکریت پسندی، اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پی ٹی ایم جیسے گروپس کی طرف سے ریاستی اداروں پر شدید تنقید کی جاتی ہے، مگر تحریک طالبان پاکستان جیسی کالعدم اور پرتشدد تنظیموں کے خلاف واضح مؤقف کا فقدان سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں کے مقابلے میں ریاستی اقدامات کو ہدف بنانا قومی یکجہتی اور سیکیورٹی فریم ورک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں مختلف قومیں آباد ہیں جہاں پنجاب، سندھ، بلوچستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے عوام ریاستی اداروں میں اکٹھے خدمات انجام دیتے ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کو کسی خاص قوم کی بالادستی کے طور پر پیش کرنے سے مختلف برادریوں میں فاصلے بڑھتے ہیں۔ معاشی مسائل، روزگار کی کمی اور تعلیم جیسے اہم چیلنجز کا حل نسلی نعروں کے بجائے عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔
قبائلی اضلاع کے عوام کی حقیقی فلاح اور حقوق کا راستہ 25ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبائی پولیس، عدالتی اور قانون ساز نظام کے مکمل اطلاق میں پوشیدہ ہے۔ طورخم اور چمن جیسے سرحدی راستوں کو جدید بنا کر قانونی تجارت و ٹرانزٹ کا فروغ، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور صحت و تعلیم کی فراہمی وہ بنیادیں ہیں جن سے عوام کی حقیقی محرومیاں ختم کی جا سکتی ہیں۔
دیکھیے: پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا کر طالبان کب تک اپنی ناکامیاں چھپائیں گے؟