ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران اپنا سخت مؤقف برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکہ جنگ اور ناکہ بندی ختم کرے، ایران کے منجمد اثاثے بحال کرے اور لبنان و غزہ سمیت پورے خطے میں جنگ بندی پر رضامند ہو، تب ہی آبنائے ہرمز کھولی جائے گی۔ محسن رضائی نے اپنے تازہ بیان میں چین کے ساتھ ایران کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔
واضح رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ایران کے 13 کروڑ ڈالرز کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے تھے۔ دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدہ امریکا کے ساتھ مذاکرات سے الگ معاملہ ہے، تاہم اس معاہدے کی حتمی منظوری ابھی سامنے نہیں آئی۔
بحیرۂ احمر اور ہرمز میں کارروائیاں
عرب میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کشیدگی اور فوجی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ منگل کو یمن کے حوثیوں کے حملے میں بحیرۂ احمر میں ایک مصری ملکیتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل عمان کے ساحل کے قریب بھی ایک تجارتی جہاز کو مبینہ طور پر حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی فوج کے مطابق منگل کی رات امریکی بحریہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے ایران کی جنوبی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے لیے پاناما کے پرچم والے بحری جہاز پر 2 میزائل داغے۔ اپریل سے اب تک امریکی افواج کی جانب سے مجموعی طور پر 12 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جون میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کی 60 روزہ جنگ بندی کی مدت بھی ختم ہونے والی ہے۔ پاکستان اور قطر سمیت ثالث ممالک دونوں فریقوں کو سفارتی حل کی جانب لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو توانائی کی لاکھوں میل طویل تنصیبات، ہزاروں بجلی گھر، امریکی و غیر امریکی نظام اور عالمی انٹرنیٹ سے منسلک بنیادی ڈھانچہ خطرے میں آ سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مشیر محمد رضا نقدی نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ کے دوران جتنے بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کر رہا ہے، اس سے زیادہ تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران مقامی ٹیکنالوجی اور صلاحیتوں پر زیادہ انحصار کر رہا ہے اور جنگ کئی سال تک جاری رہنے کی صورت میں بھی میزائلوں کی تیاری جاری رکھ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے مخالفین ملک میں عوامی بے چینی کو استعمال کرتے ہوئے اندرونی طور پر نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔