متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کو درپیش ویزا مشکلات کے باعث بحری شعبے سے وابستہ افراد کے لیے صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔
پاناما کے پرچم بردار بحری جہاز ایم ٹی آر ایم ایس پر سوار 8 پاکستانی ملاح گزشتہ 11 ماہ سے شارجہ بندرگاہ کے قریب جہاز پر ہی پھنسے ہوئے ہیں۔
متاثرہ ملاحوں کو جہاز سے اترنے، عملے کی تبدیلی اور وطن واپسی کے لیے عارضی سفری اجازت ناموں اور ٹرانزٹ ویزوں کی شدید ضرورت ہے۔
یو اے ای میں قائم پاکستانی سفارتخانے کی مسلسل سفارتی کوششوں کے باوجود ان ملاحوں کے عارضی ویزوں کا مسئلہ تاحال حل نہیں ہو سکا ہے۔
تقریباً ایک سال سے جہاز کے محدود حصے میں محصور رہنا ان کارکنوں کے لیے ایک شدید اور سنگین انسانی مسئلہ بن چکا ہے۔
ویزوں میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں اب پاکستانی ملاحوں کو ملازمت دینے پر نظرثانی کر رہی ہیں۔
اس صورتحال سے پاکستان کی عالمی بحری افرادی قوت کے لیے روزگار کے مواقع اور مستقبل کے امکانات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
متاثرہ ملاحوں نے اماراتی حکام سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر فوری طور پر اجازت نامے جاری کیے جائیں تاکہ وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔