"> بدخشاں، بغلان اور قندھار میں مزاحمتی گروہوں کے حملے
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

بدخشان، بغلان اور قندھار میں مزاحمتی حملوں میں اضافہ، طالبان کے 29 اہلکار ہلاک

افغانستان میں این آر ایف اور اے ایف ایف سمیت مختلف مزاحمتی گروہوں کے حملوں میں شدید تیزی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد صوبوں میں 29 طالبان اہلکار ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے۔
بدخشاں، بغلان اور قندھار میں مزاحمتی گروہوں کے حملے

افغانستان کے صوبوں بغلان، بدخشاں، قندوز اور قندھار میں مزاحمتی گروہوں کے حملوں میں تیزی۔ این آر ایف اور اے ایف ایف نے 29 طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد پوزیشنوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

August 21, 2026

افغانستان میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اور نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان فریڈم فرنٹ اور اے یو ایف نے بغلان، قندوز، بدخشان، ہلمند اور قندھار میں طالبان کے سیکیورٹی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

بدخشاں کے ضلع زیباگ میں اے ایف ایف اور طالبان کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے تک شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد طالبان فورسز کو متعدد پوزیشنز سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

فیض آباد میں طالبان گورنر کے دفتر اور سیکیورٹی چیک پوسٹ پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا، جبکہ قندھار میں 205 کور کے فوجی مرکز کے داخلی راستے کو نشانہ بنایا گیا۔

مزاحمتی گروہوں کا دعویٰ ہے کہ ان تمام کارروائیوں میں مجموعی طور پر 29 طالبان اہلکار ہلاک، 28 زخمی اور 3 فوجی گاڑیاں تباہ ہوئی ہیں۔

شمالی، شمال مشرقی اور جنوبی علاقوں تک پھیلی یہ پرتشدد کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ افغانستان میں سیکیورٹی چیلنجز محض ایک علاقے تک محدود نہیں رہے۔

پانچ سال کے اقتدار کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں بڑھتی ہوئی مسلح مزاحمت اور مقامی سطح پر بے چینی طالبان حکومت کے سیکیورٹی دباؤ کو واضح کر رہی ہے۔

دیکھیے: اقوام متحدہ کی رپورٹ: افغانستان دہشت گردی کا لانچنگ پیڈ بن گیا

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری سے 18 مزدور اغوا کرلیے۔

October 18, 2026

کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

October 18, 2026

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

October 18, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

October 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *