سہیل آفریدی کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہنگو پہنچنے کی اطلاعات کے بعد سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال کا معاملہ زیرِ بحث آگیا۔

August 23, 2026

بلوچستان کے علاقے پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے مربوط حملے کو ناکام بناتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

August 23, 2026

افغان طالبان نے نئے قانون کے تحت ملک بھر میں ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ پولیس کا نام تبدیل کرکے شرطہ رکھ دیا گیا ہے۔

August 23, 2026

پاکستان اور پنجاب بار کونسل نے 8 اراکین کے انفرادی بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

August 23, 2026

ٹرمپ نے ایران جنگ کو معمولی رکاوٹ قرار دیا، ایران نے امریکا کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کر دیا۔

August 23, 2026

امریکی کمیشن نے آر ایس ایس پر پابندیوں کی سفارش کر دی، بھارت نے سفارشات کو توہین آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔

August 22, 2026

طالبان کا مظاہروں پر ملک گیر پابندی کا فیصلہ، پولیس کا نام شرطہ رکھ دیا

افغان طالبان نے نئے قانون کے تحت ملک بھر میں ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ پولیس کا نام تبدیل کرکے شرطہ رکھ دیا گیا ہے۔
طالبان کی مظاہروں پر پابندی، پولیس کا نام تبدیل کرکے شرطہ رکھ دیا گیا

طالبان نے نئے قانونِ شرطہ کے تحت افغانستان میں تمام مظاہروں پر پابندی عائد کردی اور پولیس کا نام شرطہ رکھ دیا، قانون کی منظوری ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دی۔

August 23, 2026

طالبان حکومت نے ملک بھر میں تمام اقسام کے مظاہروں اور احتجاجی سرگرمیوں پر باضابطہ پابندی عائد کردی ہے۔ یہ فیصلہ ایک نئے قانون کے تحت کیا گیا ہے جسے طالبان کی وزارتِ انصاف نے ہفتے کے روز جاری کیا اور جس کی منظوری خود سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دی ہے۔

نئے قانون کی شق 50 میں واضح الفاظ میں درج ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی نوعیت کا احتجاجی مظاہرہ کرنا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم قانون میں اس پابندی کے دائرہ کار یا خلاف ورزی کی صورت میں دی جانے والی سزا سے متعلق کوئی تفصیل شامل نہیں کی گئی، جس سے اس کے اطلاق کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔

پولیس کا نیا نام

اسی قانون کے تحت طالبان نے پولیس فورس کے لیے نیا نام شرطہ اختیار کیا ہے۔ قانون میں پولیس کے مختلف شعبہ جات کے فرائض، اختیارات اور ذمہ داریوں کا تفصیلی تعین کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں حکومت مخالف احتجاج اور عوامی مظاہرے پہلے ہی نہایت محدود رہے ہیں۔ نئے قانون کے ذریعے اس پابندی کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، جس سے ملک میں اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی آزادیوں پر مزید قدغن لگنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

زیرِ حراست افراد

قانونِ شرطہ میں گرفتار اور زیرِ حراست افراد کے ساتھ پولیس کے رویے سے متعلق ہدایات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ گرفتاری کے دوران ایسے اقدامات سے مکمل گریز کیا جائے جن سے ملزم یا زیرِ حراست شخص کی جسمانی صحت یا عزتِ نفس کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو۔

قانون کے مطابق کسی بھی قیدی یا ملزم کو عدالتی حکم اور قانونی جواز کے بغیر لاٹھی، کوڑے، کیبل یا کسی دوسرے ذریعے سے مارنا یا اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا سختی سے ممنوع ہوگا۔

مظاہروں پر یہ پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان میں احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف سخت کارروائیوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔

رواں سال جون میں مغربی صوبے ہرات میں ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر گرفتار خواتین کی رہائی کے لیے ہونے والا احتجاج طالبان سکیورٹی فورسز نے طاقت کے ذریعے منتشر کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد خواتین زخمی ہوگئی تھیں۔

انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نیا قانون طالبان حکومت کو مخالفانہ آوازوں کو دبانے کے لیے مزید قانونی جواز فراہم کرے گا۔

متعلقہ مضامین

سہیل آفریدی کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہنگو پہنچنے کی اطلاعات کے بعد سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال کا معاملہ زیرِ بحث آگیا۔

August 23, 2026

بلوچستان کے علاقے پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے مربوط حملے کو ناکام بناتے ہوئے 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

August 23, 2026

پاکستان اور پنجاب بار کونسل نے 8 اراکین کے انفرادی بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

August 23, 2026

ٹرمپ نے ایران جنگ کو معمولی رکاوٹ قرار دیا، ایران نے امریکا کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کر دیا۔

August 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *