"> طالبان کی مظاہروں پر پابندی، پولیس کا نام تبدیل کرکے شرطہ رکھ دیا گیا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان کا مظاہروں پر ملک گیر پابندی کا فیصلہ، پولیس کا نام شرطہ رکھ دیا

افغان طالبان نے نئے قانون کے تحت ملک بھر میں ہر قسم کے احتجاج پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ پولیس کا نام تبدیل کرکے شرطہ رکھ دیا گیا ہے۔
طالبان کی مظاہروں پر پابندی، پولیس کا نام تبدیل کرکے شرطہ رکھ دیا گیا

طالبان نے نئے قانونِ شرطہ کے تحت افغانستان میں تمام مظاہروں پر پابندی عائد کردی اور پولیس کا نام شرطہ رکھ دیا، قانون کی منظوری ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دی۔

August 23, 2026

طالبان حکومت نے ملک بھر میں تمام اقسام کے مظاہروں اور احتجاجی سرگرمیوں پر باضابطہ پابندی عائد کردی ہے۔ یہ فیصلہ ایک نئے قانون کے تحت کیا گیا ہے جسے طالبان کی وزارتِ انصاف نے ہفتے کے روز جاری کیا اور جس کی منظوری خود سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دی ہے۔

نئے قانون کی شق 50 میں واضح الفاظ میں درج ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی نوعیت کا احتجاجی مظاہرہ کرنا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم قانون میں اس پابندی کے دائرہ کار یا خلاف ورزی کی صورت میں دی جانے والی سزا سے متعلق کوئی تفصیل شامل نہیں کی گئی، جس سے اس کے اطلاق کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔

پولیس کا نیا نام

اسی قانون کے تحت طالبان نے پولیس فورس کے لیے نیا نام شرطہ اختیار کیا ہے۔ قانون میں پولیس کے مختلف شعبہ جات کے فرائض، اختیارات اور ذمہ داریوں کا تفصیلی تعین کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں حکومت مخالف احتجاج اور عوامی مظاہرے پہلے ہی نہایت محدود رہے ہیں۔ نئے قانون کے ذریعے اس پابندی کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، جس سے ملک میں اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی آزادیوں پر مزید قدغن لگنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

زیرِ حراست افراد

قانونِ شرطہ میں گرفتار اور زیرِ حراست افراد کے ساتھ پولیس کے رویے سے متعلق ہدایات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ گرفتاری کے دوران ایسے اقدامات سے مکمل گریز کیا جائے جن سے ملزم یا زیرِ حراست شخص کی جسمانی صحت یا عزتِ نفس کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو۔

قانون کے مطابق کسی بھی قیدی یا ملزم کو عدالتی حکم اور قانونی جواز کے بغیر لاٹھی، کوڑے، کیبل یا کسی دوسرے ذریعے سے مارنا یا اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا سختی سے ممنوع ہوگا۔

مظاہروں پر یہ پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان میں احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف سخت کارروائیوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔

رواں سال جون میں مغربی صوبے ہرات میں ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر گرفتار خواتین کی رہائی کے لیے ہونے والا احتجاج طالبان سکیورٹی فورسز نے طاقت کے ذریعے منتشر کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد خواتین زخمی ہوگئی تھیں۔

انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نیا قانون طالبان حکومت کو مخالفانہ آوازوں کو دبانے کے لیے مزید قانونی جواز فراہم کرے گا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *