طالبان حکومت نے ملک بھر میں تمام اقسام کے مظاہروں اور احتجاجی سرگرمیوں پر باضابطہ پابندی عائد کردی ہے۔ یہ فیصلہ ایک نئے قانون کے تحت کیا گیا ہے جسے طالبان کی وزارتِ انصاف نے ہفتے کے روز جاری کیا اور جس کی منظوری خود سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دی ہے۔
نئے قانون کی شق 50 میں واضح الفاظ میں درج ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی نوعیت کا احتجاجی مظاہرہ کرنا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم قانون میں اس پابندی کے دائرہ کار یا خلاف ورزی کی صورت میں دی جانے والی سزا سے متعلق کوئی تفصیل شامل نہیں کی گئی، جس سے اس کے اطلاق کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔
پولیس کا نیا نام
اسی قانون کے تحت طالبان نے پولیس فورس کے لیے نیا نام شرطہ اختیار کیا ہے۔ قانون میں پولیس کے مختلف شعبہ جات کے فرائض، اختیارات اور ذمہ داریوں کا تفصیلی تعین کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں حکومت مخالف احتجاج اور عوامی مظاہرے پہلے ہی نہایت محدود رہے ہیں۔ نئے قانون کے ذریعے اس پابندی کو باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، جس سے ملک میں اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی آزادیوں پر مزید قدغن لگنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
زیرِ حراست افراد
قانونِ شرطہ میں گرفتار اور زیرِ حراست افراد کے ساتھ پولیس کے رویے سے متعلق ہدایات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ گرفتاری کے دوران ایسے اقدامات سے مکمل گریز کیا جائے جن سے ملزم یا زیرِ حراست شخص کی جسمانی صحت یا عزتِ نفس کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو۔
قانون کے مطابق کسی بھی قیدی یا ملزم کو عدالتی حکم اور قانونی جواز کے بغیر لاٹھی، کوڑے، کیبل یا کسی دوسرے ذریعے سے مارنا یا اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا سختی سے ممنوع ہوگا۔
مظاہروں پر یہ پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان میں احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف سخت کارروائیوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آتی رہی ہیں۔
رواں سال جون میں مغربی صوبے ہرات میں ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر گرفتار خواتین کی رہائی کے لیے ہونے والا احتجاج طالبان سکیورٹی فورسز نے طاقت کے ذریعے منتشر کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد خواتین زخمی ہوگئی تھیں۔
انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نیا قانون طالبان حکومت کو مخالفانہ آوازوں کو دبانے کے لیے مزید قانونی جواز فراہم کرے گا۔