"> بار کونسلز کی اراکین کے بیانات سے لاتعلقی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان بار کونسل کا 8 اراکین کے بیانات سے لاتعلقی کا اعلان

پاکستان اور پنجاب بار کونسل نے 8 اراکین کے انفرادی بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔
پاکستان بار کونسل کا 8 اراکین کے بیانات سے لاتعلقی کا اعلان

پاکستان، پنجاب اور بلوچستان بار کونسلز نے اراکین کے بیانات سے لاتعلقی ظاہر کی، زیرِ سماعت معاملات پر تبصروں سے گریز کی ہدایت۔

August 23, 2026

پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل نے بعض اراکین کی جانب سے جاری کردہ بیانات سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں کونسلز نے واضح کیا ہے کہ چند افراد کی شخصی رائے کو وکلا برادری کا اجتماعی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کے مطابق 23 میں سے صرف 8 اراکین کے بیانات ان کی انفرادی سوچ ہیں، جن کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ انہوں نے ان اراکین اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا کہ بار پلیٹ فارمز اور اعلیٰ عدلیہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

بار کونسلز کا مشترکہ مؤقف

پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیزز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بار کے پلیٹ فارمز کو کسی بھی سیاسی، ذاتی یا گروہی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وکلا تنظیموں نے واضح کیا کہ جمہوریت میں اقلیت کی رائے کو پوری برادری یا اکثریت پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین قیسر نذیر احمد ساہی اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی چوہدری ارشد علی منج کے مشترکہ بیان کے مطابق زیرِ سماعت معاملات پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق تمام قانونی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور وکلا برادری کے وقار کو برقرار رکھیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میر عطاء اللہ لنگو ایڈووکیٹ نے بھی واضح کیا ہے کہ وکلا کی سیاست کو قانونی دائرے تک محدود رہنا چاہیے۔ ان کے بقول اداروں کو کسی ایک فرد کے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ تمام بار کونسلز نے زیرِ سماعت معاملات میں غیر جانبدارانہ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *