پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل نے بعض اراکین کی جانب سے جاری کردہ بیانات سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں کونسلز نے واضح کیا ہے کہ چند افراد کی شخصی رائے کو وکلا برادری کا اجتماعی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کے مطابق 23 میں سے صرف 8 اراکین کے بیانات ان کی انفرادی سوچ ہیں، جن کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ انہوں نے ان اراکین اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے بیانات سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا کہ بار پلیٹ فارمز اور اعلیٰ عدلیہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
بار کونسلز کا مشترکہ مؤقف
پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیزز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بار کے پلیٹ فارمز کو کسی بھی سیاسی، ذاتی یا گروہی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وکلا تنظیموں نے واضح کیا کہ جمہوریت میں اقلیت کی رائے کو پوری برادری یا اکثریت پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔
پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین قیسر نذیر احمد ساہی اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی چوہدری ارشد علی منج کے مشترکہ بیان کے مطابق زیرِ سماعت معاملات پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق تمام قانونی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور وکلا برادری کے وقار کو برقرار رکھیں۔
بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میر عطاء اللہ لنگو ایڈووکیٹ نے بھی واضح کیا ہے کہ وکلا کی سیاست کو قانونی دائرے تک محدود رہنا چاہیے۔ ان کے بقول اداروں کو کسی ایک فرد کے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ تمام بار کونسلز نے زیرِ سماعت معاملات میں غیر جانبدارانہ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنانے کی ہدایت کی ہے۔