خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل کے مبینہ سیاسی استعمال سے متعلق ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہنگو پہنچنے کی اطلاعات کے بعد صوبائی حکومت سے دورے کے اخراجات اور اس کی نوعیت واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہنگو پہنچے، جہاں ان کی آمد کو مبینہ طور پر ایک مجوزہ سیاسی مارچ کی تیاریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر کا استعمال کسی سرکاری ذمہ داری کے تحت کیا گیا یا اس کا تعلق سیاسی سرگرمی سے تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ہیلی کاپٹر کسی جماعتی یا سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے اخراجات، منظوری اور قانونی جواز سے متعلق اہم سوالات جنم لیتے ہیں، کیونکہ ہیلی کاپٹر کے آپریشن پر ایندھن، دیکھ بھال اور دیگر اخراجات قومی خزانے سے برداشت کیے جاتے ہیں۔
پی ٹی آئی کا دوہرے معیار
سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ماضی میں دیگر حکومتوں کی جانب سے سرکاری وسائل کے استعمال کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔
ناقدین کے مطابق ایسے میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت سے بھی اسی معیار کے مطابق شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کیا جانا چاہیے، کیونکہ اصول اگر عوامی پیسے کے تحفظ کا ہے تو اس کا اطلاق ہر سیاسی جماعت اور ہر حکومت پر یکساں ہونا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت کا تقاضا ہے کہ ایسے ہر دورے کا ریکارڈ عوام کے سامنے موجود ہو، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ریاستی وسائل کسی سرکاری ضرورت کے تحت استعمال ہوئے یا سیاسی سرگرمی کے لیے۔
خیبر پختونخوا کے عوام پہلے ہی صوبائی حکومت کی مالی ترجیحات اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھاتے رہے ہیں، جس کے باعث یہ معاملہ مزید توجہ حاصل کر رہا ہے۔